تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 107
16 تم دریا کو دریا کیوں کہتے ہو تم لوگ بے شک سورج کو چھچھوندر کہد۔دریا کو پیشاب کہدو پہاڑ کو کنگ کہدو یہ تمہاری مرضی ہے۔ہم لوگ پیچ و بیچ کہیں گے۔سورج کو سورج کہیں گے دریا کو دریا کہیں گے اور پہاڑ کو پہاڑ کہیں گے۔میں نے بنایا ہے کہ میں نے ایک رڈیا دیکھی تھی اور دہ روڈیا الفضل میں بھی چھپ چکی ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ پیغام صلح، کا یہ لکھنا کہ اسے ربوہ کے پتہ باغیوں ہمارا نظام ہمارا روپیہ اور ہمارا اسٹیج تمہارے لیے حاضر ہے ہم تمہاری پوری پوری مدد کر ینگے اس رڈیا کی صداقت کو ظاہر کر رہا ہے۔میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائکہ ربوہ کے اوپر سارے بوئیں وہ آئیں پڑھ پڑھ کر سنار ہے ہیں جو قرآن شریف میں یہودیوں اور منافقوں کے لیے آئی ہیں اور جن میں یہ ذکر ہے کہ اگر تم کو مدینہ سے نکالا گیا تو ہم بھی تمہار سے ساتھ ہی مدینہ سے نکل جائیں گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم بھی تمہارے ساتھ مل کرمسلمانوں سے لڑائی کریں گے۔لیکن قرآن کریم منافقوں سے فرماتا ہے کہ نہ تم یہودیوں کے ساتھ مل کر مدینہ سے نکلو گے اور نہ ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑو گے یہ دونوں جھوٹے وعدے ہیں اور صرف یہودیوں کو انگیخت کرنے کے لیے ہیں چنانچہ دیکھ لو پہلے تو سیخامیوں نے کہا کہ ہمارا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں لیکن اب وہ منافقوں کو ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا روپیہ اور ہماری تنظیم اور ہمارا اسٹیج سب کچھ تمہارے لیے وقف ہے دہی کچھ کر رہے ہیں ہو خواب میں بتایا گیا تھا۔لیکن ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرے گا کہ وہ اس مدد کے اعلان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور ان لوگوں سے بے تعلق ہو جائیں گے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہی منشاء - و ہے کسی بڑے آدمی کی طرف منسوب ہونا۔ان باغیوں کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔اور پیغام صلح والے اپنے وعدے جھوٹے ثابت کرینگے۔اور کبھی وقت پر ان کی مدد نہیں کریں گے عرض ر پیغام صلح کا یہ ضمون اس بات کی شہادت ہے کہ میری یہ روڈ یا پوری ہو گئی ہے اور اس کا یہ کہا کہ میںاپنی خوابوں کو وحی نبوت کا مقام دیتا ہوں جھوٹ ہے صرف ایک سچی بات کو سچا کہا گیا ہے اور اگر کوئی شخص کسی سچی بات کو جھوٹ کہتا ہے تو وہ خود کذاب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة السلام کے الہامات کو بھی دنیا جھوٹا کہتی تھی۔لیکن دیکھ لوکس طرح خدا تعالیٰ ایک جماعت کو آپ کے پاس کھینچ لایا۔اور دنیا نے مان لیا کہ آپ کے الہامات کو جھوٹا کہنے والے خود جھوٹے تھے۔