تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 104 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 104

۱۰۴ میں جو علماء مبلغین حصہ لے رہے ہیں۔وہ جو نہی محمودیت کے حصار سے آزاد ہوں وہ ہمارے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ہمارے ہاں ان کے لیے عزت کی جگہ ہے۔تبلیغ کے لیے مواقع ہیں تقریر کے لیے اسٹیج ہے۔تبلیغ کے لیے تنظیم سے پانے ہے " اس اعلان پر حضرت مصلح موعود نے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا : - پیغامی جماعت پہلے تو یہ کہا کرتی تھی کہ ہمارا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن اب انگریزی کی یہ مشل کہ دریبلی تھیلے سے باہر گئی ہے ، ان پر پوری طرح صادق آگئی ہے۔چنانچہ پیغام صلح کے ایک تازہ پر چہ میں گجرات کے ایک پیغامی وکیل کو ایک مضمون چھپا ہے میں میں انہوں نے لکھا کہ ہم ربوہ میں نئی تحریک آزادی کے علمبرداروں کوعلی الاعلان یہ تلقین کرتے ہیں۔کہ وہ اصلاح کے اس کام کو جاری رکھیں اور استقلال، عزم۔اخلاص اور جوش ایمان سے باطل کے اثر دھا کو کچلنے میں کوئی دقیقہ فرد گذاشت نہ کریں۔ختم نبوت کے تم قائل ہو تکفیر سے تم بانہ آ چکے ہو۔تمہارے اور ہمارے درمیان اب صرف محمودیت کا پردہ ہے اس کو بھی چاک چاک کر دو۔ہم ربوہ کے آزادی پسند عناصر کا خیر مقدم کرتے ہیں اس تحریک آزادی میں جو علماء ومبلغین ہیں۔وہ جو نہی محمود دیت کے حصار سے آزاد ہوں ہمارے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں ہمارے ہاں ان کے لیے عزت کی جگہ ہے۔تبلیغ کے لیے مواقع ہیں۔تقریر کے لیے اسی ہے تبلیغ کے لیے تنظیم ہے۔آؤ ہم سب تنفر نہ کو مٹاکر ایک ہو جائیں یہ پیغام صلح ۳۱ اکتوبر ۱۹۵۶) اس مضمون نے بتا دیا ہے کہ پیغامیوں کی پہلی بات کہ ہمارا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں بالکل جھوٹ تھی۔کیونکہ اب انہوں نے صاف طور پر لکھ دیا ہے کہ ہم ربوہ کے باغیوں کو پوری طرح مدد دینے کے لیے تیار ہیں ہمارا نظام ان کے لیے حاضر ہے ہمارا روپیہ اُن کے لیے حاضر ہے اور ہم اپنا اسٹیج انہیں تقریریں کرنے کے لیے دیں گے۔لیکن میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اسے بہادر و تمہارے مولوی محمد علی صاحب بڑے تھے یا عبد المنان بڑا ہے۔تم نے مولوی محمد علی صاحب کی کتنی مدد کی تھی۔تمہاری تنظیم اور تمہارا رویہ ان کے کس کام آیا تھا نے پیغام صلح اور اکتوبر ۹۵ مت کالم نمبر ۴۰۳