تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 103
١٠٣ تک کی پیشکش کر دی چنانچہ ایک غیر مبالغ لیڈر حافظ حمد حسن صاحب چیمہ نے لکھا : - محمودیت نے اپنے پیروؤں میں سے آزادی رائے مسلوب کر رکھی ہے استبدادیت کی زنجیریں دن بدن محکم سے محکم تر کی جارہی ہیں۔جب نور دستم حالہ سے زیادہ بڑھ جائیں تو اس کا ایک زبر دست رد عمل ہوتا ہے۔اب خود ربوہ میں ایک نہ بہ دست تحریک آزادی اُٹھتی ہے میں کا علمبردار نوجوانوں کا ایک ترقی پسند طبقہ ہے بنو شاید اس طلسم کو توڑ کر رکھ دے۔اس تحریک سے خلیفہ بوکھلا اُٹھا ہے اس کا دماغی توازن قائم نہیں رہا۔وہ اپنوں اور بیگانوں سے بدظن ہوگیا ہے وہ سب کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اس کی بدظنی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔اس کی لپیٹ میں خود اس کے بھائی تک آگئے ہیں۔یہاں تک کہ ظفر اللہ خاں کو بھی اپنی صفائی میں ایک بیان دینا پڑا۔یہ حالات آنے والے واقعات کے نشان ہیں۔ہماری جماعت کا رویہ فسادات پنجاب سے لے کر اب تک اہل ریوہ کے متعلق نہایت دوستانه و مربیانہ رہا ہے۔مگر بیکا یک نہیں نا ملائم الفاظ سے مخاطب کرنا شروع کر دیا گیا اور ایک قسم کی دعوت مبارزت دے دی گئی ہے ہمیں خطبوں میں پیغامی کہ کہ اشتعال دلایا گیا ہے۔ہم پر یہ گھناؤنا الزام لگا یا گیا ہے کہ ہم محمود کی جماعت میں گھس کر سازشوں کے جال بچھا رہے ہیں جو سراسر کذب افتراء ہے اور دیدہ دانستہ خدا کے خون سے بے پردا : ہو کہ جماعت کی اجتماعی توجہ کو اپنی استبدادی کارروائیوں سے ہٹانے کے لیے اور اپنے پیروؤں کو ہمارے خلاف بھڑ کانے کے لیے یہ جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا کہ ہم خلافت محمود کے خلاف خفیہ منصو بے کر رہے ہیں۔ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم خفیہ طور پر نہیں بلکہ کھلا کھلا خلافت محمودیہ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔اس کی استبدادی زنجیروں سے قادیانی حضرات کو آزاد کرانا چاہتے ہیں جن مفاسد نے طوق سلاسل میں قوم کو جکڑا ہوا ہے انہیں ہم ریزہ ریزہ کر دینا چاہتے ہیں۔ہم ربوہ میں نئی تحریک آزادی کے علمبرداروں کو علی الاعلان یہ تلقین کرتے ہیں کہ وہ اصلاح کے اس کام کو جاری رکھیں اور استقلال عزم۔اخلاص اور جوش ایمانی سے باطل کے اثر وہا کو کچلنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں۔ختم نبوت کے تم قائل ہو۔تکفیر سے تم بانہ آچکے ہو۔تمہارے اور ہمارے درمیان اب صرف محمودیت ہی کا پردہ ہے اس کو بھی چاک چاک کر دو۔ہم ربوہ کے آزادی پسند عناصر کا خیر مقدم کرتے ہیں۔اس تحریک آزادی