تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 95
۹۵ ملک اس کی پیٹ میں آگیا۔سول نظم و نسق عملاً معطل ہوگیا۔مرکزی حکومت کو طوعا یا کریا مارشل لا دنا فتد کرنا پڑا۔سیاسی ڈا کو چندوں کے رجسٹر خرد برد کر کے پھر اپنے اپنے گھروں اور قبوں میں جا گئے اور بے لوث مسلمانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی ہو گئے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعینہ اس قسم کی افترا پردازیوں کی مہم اور فتنہ آسمانی کی انہیں اب پھر جارہی ہیں۔چنانچہ سے کہیں گنام دبے حیثیت آدمیوں کی طرف سے امام جماعت احمدیہ پر مقدمات کی جعلی جریں چھاپی جا رہی ہیں۔ہ کہیں سابق وزیر خارجہ پاکستان کو دان کے واشگاف اظہار والہیت کے باوجود) اپنے امام کے مد مقابل دیکھا کہ ان کی طرف سے جعلی پراپیگنڈے کے تیر چھوڑ جار ہے ہیں۔سے اور کہیں بعض لوگوں کی طرف سے رجماعت اسلامی کی خط و کتابتی مہموں کی طرح) اپنے نام تجعلی خطوط لکھو اگر اور انہیں نظام ربوہ کا مقہور جتا کر ان سے ہمدردی کے طور پر پولیس اور حکومت کو تلقین کا رروائی کی جار ہی ہے۔- حالانکہ مذہب سے اُنس رکھنے والے دل اور دماغ خوب جانتے ہیں۔کہ آقا در مرید کا تعلق در حقیقت باپ اور بیٹے سے بھی کہیں گہرا ہوتا ہے اور ایک باپ اپنے بیٹوں کی تربیت و اصلاح کے لئے رجب تک وہ اس کے بیٹے کہلائیں) ہر طریق اختیار کرنے کا مجاز و مختار ہوتا ہے پیالہ کا۔محبت کا۔تلقین کا۔خوف یا مقاطعہ کا۔لیکن کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ایک باپ نے اپنے بیٹے کو اس کی کسی لغزش پر ڈانٹ پلائی ہو۔اور وہ بیٹا بھاگ کر اپنے باپ اور خاندان کے جانی دشمنوں کے قدموں میں جا پڑا ہو کہ۔میری امداد کیجئے۔میرا باپ میرے خلاف ہو گیا ہے۔اور اگر کوئی بیٹا ایسا کرتا ہے تو ہمیں کوئی باپ دیانتداری سے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ وہ اپنے اس بیٹے کو کس نام سے یاد کرے گا۔ہم صدق دل سے اس حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں کہ کوئی ایسا مذہبی بیٹا جس کی شریانوں میں خالص خون دوڑ رہا ہو رہماری مراد اپنے آقا سے عقیدت دو الہیت کے سچے خون سے ہے، کبھی اپنے باپ کی سرزنش سے اس قدر غلط طور پر متا ثر نہیں ہو سکتا کہ اپنے باپ اور اپنے خاندان کے جانی دشمنوں ہی کی پناہ میں چلا جائے۔۔