تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 96
۹۶ ہاں وہ اس گھر یلو مقاطعہ سے متاثر ہو کر راس وقت تک کے لئے جب تک کہ غلط فہمیوں کے تمام بادل چھٹ نہ جائیں اور گھر والے اُسے درباره خندہ پیشانی سے قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو جائیں ) بے تعلقی نما خاموشی تو اختیار کر سکتا ہے لیکن یہ کہ وہ اپنے باپ اور اپنے کنبہ کے خون کے پیاسوں ہی سے ساجھا کر لے۔ہم تو اس بے غیرتی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔یا در ہے ہم نے جانی دشمنوں اور خون کے پیاسوں کا لفظ تکرار کے ساتھ دانستہ استعمال کیا ہے۔اس لئے کہ جس جماعت کے داخلی نظام کو ہمارے بعض دوستوں نے ریاست در ریاست کے خطرناک الزام سے موسوم کیا ہے۔ہم یہ اس کی بے نہیں اور الزام دینے والوں کی خوب آشامی خوب آشکارا ہے اور اس لئے بھی کہ اس قدر جاہ و قاہر نظام کی تہمت کے باوجود ہم نے -۔اکابر نظام کی زبان بندیاں بھی ہوتی دیکھی ہیں۔ان کی معاشی ناکہ بندیوں کا نظارہ بھی کیا ہے۔معمولی معمولی چا تو اور نشتر رکھنے کی پاداش میں دس دس سال کے لئے قید ہوتے بھی دیکھنا اور تو اور ہم نے تو یہ بھی دیکھا ہے۔کہ ایک دن اپنی سیاسی طالع آزماؤں کا ایک نمائندہ لائلپور کے مضافات سے چل کر اسی ریاست در ریاست کے ہیڈ کوارٹر پر پہنچا۔اور دن دہاڑے اس مبینہ ریاست کے سب سے بڑے رئیس کی گردن میں خنجر گھونپ کے چلتا ہوا۔آپ ہی بتا ہے کہ اس دانشگان بے بسی پر مذکورۃ الصدرہ تشدد کی تہمت لگانا۔اگر حقائق سے غیر دیانتدا پہلو تہی اور جانبدارانہ چشم پوشی نہیں تو اور کیا ہے۔ستم بالائے ستم یہ ہے کہ۔بے بسی کی انتہا پر بھی امن عامہ کے جن دعویداروں کو اس وقت اس سفاک کے مذموم فصل کی مدحت کی توفیق نہیں ملی تھی۔اور میں غیر جانبدار صحافت کو رسمی طور پر بھی ان سیاسی ڈاکوؤں پر قدغن بٹھانے کی تلقین دتخریک کی سعادت نصیب نہیں ہو سکی تھی۔ان کا نام نہا د جذیہ اخترت اور جوش حریت آج چند بے نام خطوں اور بے عنوان افواہوں پر خواہ مخواہ کھولا ہوا ہے بتا یے۔اسے ایک غیر با نهار مبصر جذبہ ہمدردی سے تعبیر کرے گا یا نیتوں کے فتور سے ! ۱۹۵ کے منادات کی تحقیقاتی عدالت نے اپنی رپورٹ میں ایک جگہ احراریوں کی اس سیاسی فتنہ انگیزی کا