تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 57
۵۷ رہا ہے مگر کوئی اس کی مدد کو نہیں پہنچ سکا کیونکہ پانی کا بہاؤ اس درجہ شدید ہے کہ اس میں جانا موت کو دعوت دینا ہے۔یہ بات سنتے ہی شیر دل احمدی جوانواں نے اپنی کشتی کا رخ اس طرف کر لیا اور دو گھنٹہ کی جان توڑ کوشش کے بعد وہاں پہنچنے میں سے کامیاب ہو گئے۔اس علاقہ میں بارڈر پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ خدام کے کام بہت متاثر ہوئے اور گئی جگہ انہوں نے خود اس پارٹی کے ساتھ دورہ کیا۔فوجی حکام نے اس پارٹی کی جدوجہد سے متاثر ہو کر اس کشتی میں ایک وائرلیس سیٹ بھی نصب کر دیا تھا جس سے وقتاً فوقتاً ان کی خیریت دریافت کی جاتی اور پھر جو دھامل بلڈنگ کے مرکزی سینٹر میں بذریعہ ٹیلی فون اطلاع کر دی جاتی۔سول اور فوجی افسروں نے عوام کو بذریعہ ریڈیو ہدایت کی کہ وہ سیلاب میں امدادی کام کے سلسلہ میں جو دھامل بلڈنگ کے امدادی مرکز سے رابطہ قائم کریں اور ساتھ ہی اس کا ٹیلی فون نمبر بھی بتا دیا گیا۔اس انتظام سے لوگوں کو بہت فائدہ ہوا اور انہیں اپنے عزیزوں کی غیریت کے بارے میں بروقت اور مصیح معلومات حاصل ہوئیں۔اس مرکز کی فراہم کر وہ بعض اطلاعات ریڈیو پر بھی نشر کی گئیں۔۹ اکتوبر کو چوہدری محمد اسد اللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور نے قائد مجلس خالد ہدایت صاحب اور شیخ مبارک محمود صاحب پانی پتی (نائب نگران ریلیف سینٹر) کی معیت میں لاہور کے گرد و نواح کی سیلاب زدہ بستیوں کا ایک طیارے کے ذریعہ فضائی جائزہ لیا۔اس جہاز کا انتظام چوہدری صاحب نے خود کیا تھا۔واپسی پر انہوں نے خدام کو تفصیلی ہدایات دیں جن کے تحت فوری طور پر امدادی پارٹیاں جلو اور شاہدرہ کے علاقوں میں روانہ کی گئیں۔ایک پارٹی چھے قدام پر شتمل قصور بھیجی گئی جس نے متعدد دیہات میں ریلیف کا کام کیا۔دو ہزار سے زائد افراد میں کھانے کی خشک اشیا تقسیم کیں اور چھ سو سے زیادہ افراد کو طبی امداد پہنچائی اور ایک سو پچیس افراد میں کپڑے تقسیم کئے گئے۔علاوہ ازیں شہر لاہور سے بارہ بارہ میل تک کالا شاہ کاکو کی نواحی بستیوں میں بھی خدام کی امدادی پارٹیوں نے وسیع پیمانے پر ضروری اشیاء تقسیم کیں اور ہزار ہا افراد