تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 58
۵۸ کو طبی امداد پہنچائی۔اس علاقے میں ایک کثیر تعداد ایسے دیہات کی تھی جن میں صرف جماعت جدید کو امدادی خدمات بجالانے کی سعادت نصیب ہوئی۔شہر میں پانی کے اترنے کے بعد بے حد غلاظت اور گندگی پھیل گئی تھی مجلس خدام الما حمدیہ نے اپنے چار امدادی سینٹر سلطان پورہ ، شاہدرہ ، کرشن نگر اور اسلامیہ پارک میں قائم کر دیئے۔جہاں سے خدام روزانہ دوائیاں، کھانے کی خشک اشیاء، آٹا اور کپڑے وغیرہ لے کر دُور دُور تک سیلاب زدہ علاقوں میں تقسیم کرتے رہے، نیز خدام نے بالخصوص کرشن نگر کے علاقہ میں جو سب سے زیادہ متاثر تھا۔پولیس کے ساتھ مل کر صفائی کا کام کیا اور فضا کو تعفن اور بد بو سے بچانے کی قابل قدر خدمات انجام دیں جن کا اس علاقہ کے لوگوں اور پولیس پر بہت نمایاں اللہ تھا۔چنانچہ وہاں کے سب انسپکٹر پولیس چوہدری محمد اشرف صاحب نے معززین علاقہ کا ایک وفد یکا یا اور اُس میں برملا کہا کہ در حقیقت جماعت احمدیہ ہی خدمت خلق کا کام کر رہی ہے اور یہی لوگ ہیں جو سب سے آگے ہیں۔آنریبل ڈاکٹر خاں صاحب وزیر اعلی مغربی پاکستان بھی اس علاقہ میں تشریف لائے اور قدام الاحمدیہ کے ریلیف کیمپ اور کام کا معائنہ کیا اور سراہا۔سول ڈیفنس اور اینٹی ملیریا کے محکمہ جات کے ساتھ بھی خدام کام کرتے رہے۔اور مسٹر آئی یو خان ریلیف کمشنر کو بھی پہچاس خدام کی مستقل خدمات پیش کیں۔یہ محکمے خدا تعالیٰ کے فضل سے ان خدام کے کام کو دیکھ کہ بہت متاثر ہوئے اور کئی بار جود ہا مل بلڈنگ کے مرکز میں پہنچے کہ احمدی نوجوانوں کو خراج تحسین ادا کیا مجموعی طور پر خدام احمدیت نے ساڑھے تین سو سے زائد افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔اور پندرہ ہزار سات سو افراد میں پکا ہوا کھانا اور سولہ ہزار چھ سو سیلاب زدگان میں دوسری ضروری اشیاء تقسیم کیں، اور جن افراد کو انہوں نے ٹیکے لگائے یا دوائیں تقسیم کیں اُن کی مجموعی تعداد ۷۱۵۰ تک پہنچتی ہے۔جن مستحقین میں پار چات یا لحاف تقسیم کئے گئے وہ ان کے علاوہ ہیں ہے "خالد" جنوری ۶۱۹۵۷ ص ۲۵ تا ۲۰