تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 56 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 56

۵۶ (۴) - لاہور (امیر جماعت چوہدری محمد اسد اللہ خان صاحب ، قائد مجلس خالد ہدایت صاحب - نگران اعلی میاں محمد يحي صاحب نیلا گنند ) لاہور اور اس کا نواحی علاقہ ہم اکتوبر کی صبح کو خطر ناک سیلاب کی زد میں آگیا۔جس کے فوراً بعد مجلس خدام الاحمدیہ لا ہور نے جو دھامل بلڈنگ میں اپنا امدادی مرکز قائم کر کے نہایت منظم کرہ نگ میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں مجلس نے پچھلے سال کے سیلاب میں جو مثالی خدمات سرانجام دی تھیں ، اُن کے گہرے نقوش ابھی تک عوامی اور سر کا ر ہی حلقوں میں قائم تھے یہی وجہ ہے کہ مجلس کے ایک نمائندہ وفد نے جب اپنے نائب امیر ڈاکٹر محمد عبد الحق صاحب کی زیر قیادت پولیس، فوج اور سول حکام کو اپنی خدمات پیش کیں تو اُسے بلا تاخیر افسران حکومت کا مخلصانہ تعاون حاصل ہو گیا جس کے نتیجہ میں لاہور کے احمدی رضا کاروں کی امدادی کوششیں لاہور شہر اور اس کے ماحول میں نہایت تیزی سے وسعت پکڑ گئیں۔چنانچہ پہلے روز ہی تربیت یافتہ احمدی نوجوان فوجی حکام کی کشتی پر مصری شاہ میں پہنچے اور پنتالیس افراد کو موت کی آغوش سے نکال کو محفوظ مقامات میں لے آئے۔۵ اکتوبر کو ڈیڑھ صد خدام کی امدادی پارٹیاں متاثرہ علاقوں میں پھیل گئیں اور دو ہزار سے زائد سیلاب زدگان کو ضروری اشیاء بہم پہنچائیں اور ڈھائی سو افراد کو محفوظ مقامات میں منتقل کیا۔اس روزہ خدام نے جن علاقوں میں خدمت انجام دی ان میں سنت نگر، کرشن نگر ، راج گڑھے ، اسلامیه پارک سمن آباد ، تاج پورہ ، وسن پوره ، حبیب گنج ، مصری شاہ ، بھارت نگر اور تو لکھا چوپ کے علاقے شامل ہیں مجلس کی ایک پارٹی بذریعہ کشتی لاہور سے ۲۱ میل دُور تلواڑہ اور ملک پور ، سانی وال کے علاقہ میں پہنچی اور ایک ہزار سے زائد مصیبت زدگان کو کھانا کھلایا۔اس پارٹی نے قریباً ۳۶ گھنٹے متواتر امدادی کام کیا اور ۳۰ نے لبس عورتوں اور معصوم بچوں کو جو درختوں پر بیٹھے زندگی اور موت کی کشمکش۔سے دوچار تھے محفوظ مقامات تک پہنچا یا۔جب یہ خدام موضع سانی وال پہنچے تو ان کو بتایا گیا کہ ایک فرینگ دور ایک نوجوان دو دن سے امداد کے لئے چلاتا