تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 50
نجنہ اماءاللہ ڈھاکہ نے زیر نگرانی بیگم صاحبہ گورنر صاحب مشرقی پاکستان امدادی خدمات انجام دیں، اور لجنہ اماءاللہ کی طرف سے پانچ سو روپے کی رقم کی بلیف کے لئے پیش کی اور لجنہ اماء اللہ کی بعض ممبرات مختلف مقامات پر ریلیف کے فرائض بجا لاتی رہیں ہیے دامیر مولوی عبدالرحمن صاحب منتشر قائد مجلس خدام الاحمدیہ (۲) ڈیرہ غازیخاں مانتی غیر محہ صاحب) محمد یہاں ۱۳؍ اگست کو زبر دست سیلاب آگیا جس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا تھا اور ہر شخص کی زبان پر نفسی نفسی کی صدا تھی۔جماعت احمدیہ کے افراد بالخصوص خدام احمدیہ نے بلا امتیاز فرقہ مصیبت زدگان کی فوری اور بروقت امداد کرنے کے سلسلے میں قابل قدر مساعی سے کام لیا۔اور ۱۴ راگست کو امدادی کیمپ کھول کہ ضرورت مند افراد کی خدمت کے لئے ہر ممکن ذرائع بروئے کارے آئے گرتے ہوئے مکانوں میں سے سامان نکالا۔طلبہ اٹھایا۔دیواریں بنائیں اور مستحقین کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔علاوہ ازیں ڈیرہ نمازیخان اور اُس کے نواح میں نادار اور سختی خاندانوں میں پار چات تقسیم کئے۔ایک احمدی غلام حسن خانصاحب دلبستی مندرانی ) نے جن کا گھر سیلاب کی نذر ہو چکا تھا ، دوسرے مصیبت زدگان کو مکان بنا نے کے لئے دو سو اسی مرے زمین مفت دے کر قربانی اور ہمدردی خلق کی ایک اعلیٰ مثال قائم کی لیے (۳)، ریوہ اس کہولناک سیلاب میں پاکستان کے احمدی جوانوں نے جو قابل رشک امدادی خدمات انجام دیں۔اُس میں مجلس خدام الاحمدیہ کی مرکزی قبارت کی فرض شناسی بالغ نظری اور حب الوطنی کا بھاری عمل دخل تھا۔اُن دنوں صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب مجلس خدام احمدیہ مرکز یہ کے صدر تھے۔سیلاب کی خبر سن کر مجلس مرکز یہ ه روز نامه " الفضل " و ستمبر و ۲۲ ستمبر شهداءث۔و ماهنامه خالد ربوہ جنوری ۱۹۵۶ء شه روزنامه الفضل ۲۶/۲۱، ۲۷ اگست و یکیم و ۲۳ ستمبر شده ( رپورٹ مولوی عبدالواحید خانصاحب انچارج کیمپ بستی شندرانی )