تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 49 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 49

۴۹ دینے اور ہزاروں سیلاب زدگان میں نقد رقوم کے علاوہ ادویہ ، چاول ، دودھ اور دیگر اشیاء کی بھاری مقدار تقسیم کی۔۲۱ اگست ۱۹۵۵ء کو مٹر غلام قادر چوہدری ایم ایل اے واہیم سی نے بشیر احمد صاحب سیکرٹری ریلیف کی معیت میں اچانک دو پہر کے وقت پگلہ ریلیف سنٹر کا معائنہ کیا اور اُس کی امدادی سرگرمیوں کو دیکھ کر بہت خوشنودی کا اظہار کیا اور اپنے قلم سے مندرجہ ذیل الفاظ لکھے کہ در " آج میں نے اچانک موضع پگلہ میں جماعت احمدیہ کے ریلیف سنٹر کا معائنہ کیا۔کہیں اس سنٹر کو دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں۔جماعت احمدیہ کے کارکن اپنے محدود ذرائع کے باوجود بہت وسیع پیمانہ پر امدادی کام کر رہے ہیں اور اخلاص اور دیانت داری سے عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔کئی ہزار آدمیوں میں چاول، دودھ اور دوائیاں تقسیم کی جاچکی ہیں۔کاش کہ یہ روح دوسرے اداروں میں بھی پیدا ہو اور وہ اس اخلاص اور محنت سے کام کریں جس اخلاص اور محنت اور ہمدردی سے جماعت احمدیہ کے کارکن کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کو اجر عظیم دے۔غلام قادر چوہدری ایم ایل اے یا اسی طرح امدادی امور کے صوبائی وزیر مسٹر ہاشم الدین احمد ، متعلقہ افسران اور شاف کے ہمراہ ۲۴ ستمبر 1920ء کو میر پور کالونی کے احمد یہ ریلیف سنٹر میں تشریف لے گئے اور ریلیف کے کام میں گہری دلچسپی کا ثبوت دیا۔حضرت مصلح موعود کی ہدایت کے مطابق مولانا رحمت علی صاحب سابق مبلغ انڈونیشیا اور سید اعجاز احمد صاحب مرقی سلسلہ برہمن بڑیا پہنچے اور مقامی مجلس خدام الاحمدیہ کے تعاون سے سیلاب زدگان کی امداد کا کام پہلے سے زیادہ اہتمام اور باقاعدگی کے ساتھ شروع کر دیا۔برہمن بڑیا کے گشتی شفا خانہ اور خیراتی شفاخانہ کے ذریعہ جن افراد کا مفت علاج کیا گیا اُن کی تعداد وسط ستمبر ۱۹۵۵ء تک ۴۰۰ ۲ تک جاپہنچی سلسلہ کے تیسرے مرتی جہا نہ محمد عمر صاحب بھی دوسرے مربیان کے ساتھ ڈھا کہ اور میر پور کالونی برہمن بڑیا اور نارائن گنج کے مختلف علاقوں میں امدادی کاموں کے لئے وقف رہے۔، ہ کی طرح اس سال بھی محترمہ بیگم صاحبہ صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب سیکرٹری