تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 40
امدادی پارٹیاں صبح صبح مختلف دیہات میں کام کرنے کے لئے نکل جاتیں اور خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہو کر سارا دن علاج معالجہ اور امدادی کام میں مصروف رہتیں۔اس امدادی کیمپ میں پانچے درویش ہمہ وقت مصروف کار رہتے اور اُن کا ہاتھ بٹانے کیلئے روزانہ ہی تین چار تازه دم نوجوان قادیان سے پہنچ جاتے۔کیمپ کے انچار ج مکرم بشیر احمد صاحب انچارج احمدیہ ڈسپنسری تھے اور محمود احمد صاحب مبشر ، چوہدری بشیر احمد صاحب مہار، چوہدری منظور احمد صاحب چیمہ اور مرزا محمود احمد صاحب اُن کے ساتھ کام میں سرگرم عمل رہتے۔چونکہ گندم اور چنے وغیرہ کی فصلیں ہونے کا وقت آچکا تھا اس لئے ایک طرف ضلع اور صوبہ کے حکام کو بیچ اور مویشوں کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی گئی، دوسری طرف قادیان سے مستری منظور احمد صاحب امدادی کیمپ میں ہل وغیرہ کی مرمت کے لئے پہنچ گئے۔اس امدادی کیمپ کو کامیاب اور موثر بنانے کے لئے صاحبزادہ مرزا دسیم احمد صاحب نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ قادیان نے خاص طور پر گہری دلچسپی لی۔چنانچہ آپ سر نومبر شہداء کی شام کو ریعنی کیمپ کے قائم ہونے کے اگلے دن ) امدادی کاموں میں شرکت اور ریلیف کام کا معائنہ کرنے کے لئے خود تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ چوہدری عبد القدیر صاحب ، چوہدری غلام ربانی صاحب انچارج احمد یہ شفاخانہ اور یونس احمد صاحب اسکم مصروف عمل رہے۔صاحبزادہ صاحب نے خدام الاحمدیہ کی طرف سے خدام الاحمدیہ کے فنڈ سے مبلغ دو سو روپے اور اپنی طرف سے بہت سے پار چات بھی عنایت فرمائے اسی طرح آپ کی بیگم صاحبہ نے لجنہ اماء اللہ کی طرف سے اور سید محمد شریف صاحب نے مجلس انصار اللہ کی طرف سے ایک ایک سو روپیہ اس فنڈ میں دیا۔اسی طرح صدر انجمن احمد یہ قادیان نے رجس کی نگرانی میں یہ ریلیف کیمپ کھولا گیا تھا ) پانچ سو روپے کا عطیہ دیا۔اُن دنوں درویشوں کے گھر خدمت خلق کے مراکز بنے ہوئے تھے۔جماعت کی طرف سے کپڑوں کے تھان خرید کر بچوں عورتوں اور مردوں کے لئے کپڑے تیار کروائے گئے۔سلائی کا کام احمدی درزیوں نے بلا اُجرت کیا اور رات دن اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے لئے پار چات تیار کرنے میں