تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 39
۳۹ ہو ، سکتھوں اور ہندوؤں کی مدد بھی کرنی چاہیئے ہے۔قادیان کے مضافات میں رفاہی خدمات : درویشان قادیان نے حضرت مصلح موعود کے اس ارشاد مبارک پر جس والہانہ اندازہ میں لبیک کہا اُسے ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔اگرچہ طوفانی بارش اور سیلاب سے پیدا شدہ تشویشناک صورت حال نے سب سے زیادہ انہی کو متاثر کیا تھا۔اور اپنے مکانوں کی از سر نو تعمیر اور مرمت کے لئے انہیں بھاری اخراجات درکار تھے مگر گذشتہ شاندار جماعتی روایات کے عین مطابق انہوں نے نہ صرف قادیان کے متعد ومستحق اور ضرورت مند غیر مسلم اصحاب کو نقد اما میں کپڑے اور انان تقسیم کیا۔بلکہ فوری طور پر چوہدری بدر الدین صاحب عامل معتمد مجلس قدام الاحمدیہ کے زیر قیادت بیٹ کے علاقہ میں امدادی سرگرمیاں جاری کر دیں۔یکم نوی او کو قادیان سے ایک وقد سیلاب سے متاثرہ علاقہ کے حالات اور فوری ضروریات کا جائزہ لینے کے لئے اس علاقہ کی طرف روانہ ہوا۔وقد مندرجہ ذیل اصحاب پرمشتمل تھا۔شیخ عبد الحمید صاحب عاجز ناظر امور عامه ، ملک صلاح الدین صاحب ایم اے مولف اصحاب احمد" مولوی برکت علی صاحب جنرل سیکرٹری لوکل کمیٹی ، چوہدری غلام ربانی صاحب انچارج احد به شفاخانه، چوہدری منظور احمد صاحب چیمہ اور مرزا محمود احمد صاحب۔یہ وفد اس علاقہ کے دورہ سے اس نتیجہ پر پہنچا کہ سیلاب نہ دہ علاقہ کی فوری امداد کے لئے با قاعدہ امدادی کیمپ کھولنا ضروری ہے۔اس فیصلہ پر اگلے روز ۱۲ نومبر ۱۹۹۵ء کو پھیرو چیچی کے مقام پر ایک طبی اور امدادی کیمپ قائم کر دیا گیا جس نے ہر ممکن ذریعہ سے مصیبت زدگان کی خدمت کا فریقیہ انجام دیا۔یہ کیمپ ۱۶ر نومبر ۱۹۵۵ء تک جاری رہا۔تیس سے زیادہ دیہات کے ہزار ہا ضرورت مندوں نے اس سے استفادہ کیا۔کیمپ کے حلقہ میں جو دیہات تھے اُن میں گھوڑے واہ۔نینو وال۔پھیرو چیچی۔بھینی کھنڈہ۔راج پوره راج گڑھ۔ملاں وال۔بیسوال۔خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اس امدادی و طبی کیمپ سے ه هفت روزه بدر قادیان ۲۸ قادیان ۲۸ اکتوبر ۱۹۵۵