تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 41
الم مصروف رہے۔احمدی مستورات نے پار چات اور غلہ جمع کیا جو ضرورت مندوں میں تقسیم کیا گیا۔لیا۔پھیر د چیچی کیمپ کے ذریعہ سے ایسا شاندار امدادی کام ہوا کہ اکثر دبیات کے سرپنچوں اور پنچایت کے ممبروں نے تحریری طور جماعت احمدیہ کی خدمات پر شکر گزاری کے پیغامات نظارت امور عامہ قادیان کو بھجوائے ، ان معزز غیر مسلم دوستوں کے نام یہ ہیں :- - سردار منگل سنگھ صاحب ایم ایس سی ایل ایل بی نمبر دار و پنج موضع بھینی میاں خان۔۲- ٹھاکر تر لوک سنگھ صاحب سر پنچ و سردار امرسنگھ صاحب نمبر دار موضع بھا گڑیاں۔سردار خزاں سنگھ صاحب نمبر دار و سردار بہادر سنگھ صاحب سر پنچ موضع ملاں وال۔۔سردار نرنجن سنگھ صاحب ولد روڈ سنگھ صاحب نمبردار موضع راجپورہ۔-۵ سردار رچھوسنگھ صاحب نمبر دار موضع کوٹ خان محمد - 4۔پنڈت دیوان صاحب سر پہنچ و سردار بلدیو سنگھ صاحب ممبر پنچائیت موضع خان محمد کوچکی پور دکھڑ۔سردار سنت سنگھ صاحب نمبر پنچایت و سردار سنتوک سنگھ صاحب سر پنچ موضع نانو والی۔سردار بلدیو سنگھ صاحب سر پنج و سردار سنسار سنگھ صاحب میر پہنچایت موضع عالماں۔۹ - سردار دیوان سنگھ صاحب ممبر پنچایت و سردار جگت سنگھ صاحب موضع چھجڑا۔۱۰ سردار سنگھ صاحب و لاب سنگھ صاحب تمبر پنچایت و سردار مان سنگھ صاحب پر پہنچ پھیرو چیچی۔۱۱ سردار گیل سنگھ صاحب ممبر پہنچایت بھلوال۔امدادی کیمپ کی کارکردگی کی اطلاع جب ضلع اور صوبہ کے افسران کو ہوئی تو سرکاری و کانگریسی حلقوں نے بھی ان خدمات پر خراج تحسین ادا کیا اور شکریہ کے پیغامات اور خطوط لکھے جن میں سے چند بطور نمونہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :- دان)۔" جو قیمتی خدمات آپ کی جماعت سیلاب سے متاثر مصیبت زدہ لوگوں کی کر