تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 497
وم جسے " داخلی مشن کو خود اپنے ہی گھر میں کلیسا اور مسجد کی باہمی مخالفت کی شکل میں نئی سرگرمی اور جد و جہد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔وہ ممالک جن میں ہم اپنے مناد بھیجا کرتے تھے اب جو ابا ہمارے ہاں مناد بھیج رہے ہیں اور ہما اور ہمارا قرض چکانے پر تل گئے ہیں۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اب حالات بدلے ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اس غیر ملکی مذہب اور اس کی تعلیم کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا جو دیگر مذاہب کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے کیونکہ ڈنمارک میں مکمل مذہبی آزادی ہے۔البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس غیر ملکی مذہب کے بارہ میں عوام کا رد عمل کیا ہوگا ؟۔یہ ائر مختارج بیان نہیں کہ ڈنمارک میں بڑی تیزی سے مسلمانوں کی ایک جماعت معرض وجود میں آچکی ہے اور جس رفتار سے مسجد کی تعمیر عمل میں آئی ہے وہ اس امر کی آئینہ دار ہے کہ ڈنمارک کی مسلم تحریک کے پیچھے پر عزم اور فعال دماغ کار فرما ہیں۔اس بات کو تو کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا کہ سارا ڈنمارک حلقہ بگوش اسلام ہو جائے گا۔لیکن کوپن ہیگن کے علاقہ دی ڈورا میں جس سرگرمی کا ثبوت منظر عام پر آیا ہے۔وہ اپنی وسعت کے لحاظ سے اس نوعیت کی ہے کہ کلیسا اس موقف کا سہارا نہیں لے سکتا کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈنمارک جو پہلے بیرونی دنیا میں عیسائی مناد بھیجا کرتا تھا۔اب خود تبلیغی سرگر میوں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔یہ صورت حال ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے اور اس چیلنج کو ہر حال قبول کرنا ہو گا۔کلیسیا کی طرف سے مخالفت کا آغاز تقریب استان ما یک بار وہی ہوا کہ میان مسجد کا پہلا رو عیسائی حلقے مسجد کی مقبولیت کو دیکھ کر کھلم کھلا مخالفت پر اتر آئے اور اخبارات میں مخالف مضامین کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ایک پادری نے واضح طور پر اخبار میں لکھا کہ ڈنمارک کی تاریخ کا بدترین دن وہ تھا جس دن " نصرت جہاں مسجد کا افتتاح کیا گیا۔اور یمین ایک عیسائی پادری کی حیثیت سے اس مسجد کا ہرگز روا دار نہیں ہو سکتا۔یہ سلسلہ اتنا وسیع تھا کہ بعض اخبارات نے لکھا کہ پادریوں نے مسجد کے خلاف جہاد کا اعلان ه روزه نامه الفضل ۲۵ اگست ۱۹۶۶ ۹