تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 498 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 498

" مه ام کر دیا ہے۔بہت سے لوگوں نے احمد یہ مشن کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جب انہوں نے محسوس کیا کہ اس سے تو بجائے نفرت کے لوگوں کے دلوں میں اسلام کے حق میں ہمدردی پیدا ہو رہی ہے تو انہوں نے مسجد کے ساتھ ایک چرچہ میں ڈنمارک کے مشہور پادری کی دجو مشرق وسطیٰ میں مبلغ رہ چکے تھے ) تقریر کرائی۔پادری صاحب نے کہا میں اسلام کا خیر مقدم تو کہتا ہوں مگر ایسے اسلام کا جو جمہور کا اسلام ہے۔جن کے نزدیک السلام میہ سکھاتا ہے کہ منکرین جب تک اسلام قبول نہیں کرتے ان کے خلاف علم جہاد بلند کرو۔اور ان کی گردنیں کاٹ دو۔یہ بھی کوئی اسلام ہے جو نصرت جہاں مسجد والے پھیلا رہے ہیں۔پادری مہرک پیڈریس نے لکھا: جب ہم تبلیغی مشن کا لفظ بولتے ہیں تو از خود ہمارے ذہن میں انجیل کی تبلیغ کا تصور آتا ہے۔جو ہم اور دنوں یہودیوں اور سلمانوں کو کرتے ہیں۔ہم عیسائی صدیوں سے اس تصویر کے عادی ہیں۔لیکن کوپن ہیگن میں مسجد نصرت جہاں کی تعمیر ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔السلام ایک ملیے جمود کے بعد دوبارہ فعال تبلیغی مشن بن گیا ہے۔اور اب جماعت احمدیہ نے بڑے منظم طریق سے پروگرام بنا کر عالمی سطح پر تبلیغ شروع کر دی۔۔۔۔۔۔اور یہ ایک ایسی عالمی تحریک ہے جو عیسائیت کا جواب ہے سچ جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کو دیکھ کہ پادریوں نے ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا جس نے ایک کتاب " شمالی یورپ میں اسلام اور جماعت احمدیہ پر ایک نظر “ کے عنوان سے لکھی جس میں بتایا کہ ۱۹۶۶ء میں کوپن ہیگن کے ایک محلہ میں مسجد کا افتتاح کیا گیا، یہ اس بات کی روشن دلیل ہے که تبلیغ پر عیسائیوں کی اجارہ داری نہیں۔۔۔۔۔۔بلکہ آپ ایک غیر ملکی مذہب اسلام جاگ رہا ہے اور عیسائیوں کی صدیوں کی تبلیغ کا منہ توڑ جواب دینے لگا ہے۔اور یہ بات تمہیں دو چھیلنج دیتی ہے۔ایک یہ کہ نصرت جہاں مسجد کی تعمیر پر ہمارا کیا ردعمل ہے ؟۔دوسرا شمالی یورپ میں اسلام کی موجودگی۔** یہ دو زبردست چیلینج ہیں جو شمالی پورپ میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی جد و جہد پیش کرتی ہے یہ ه روزنامه افضل ۱۸ اپریل شاه ۲۳ ، ۳ه روزنامه الفضل مورخه ۱۹ ر ا پریل نشده و ص /