تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 496 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 496

" دکھ اور تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتا خصوصاً مین ایسے وقت میں جبکہ اسرائیل اور دنیائے عرب کے درمیان کشیدگی زوروں پر ہے۔اسلام حقیقتاً ہم سے اتنا دور اور اتنا متروکی نہیں ہے جیسا کہ ہمارے آباء و اجداد عام طور پر یقین کرتے تھے، اسلام کی قوت اور عظمت بیا یک درخشندہ نشان ہے جس کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد آج افتتاح ہوا ہے۔(۳)۔ڈنمارک کے ایک اور روز نامہ AKULET نے اپنے ۲۲ جولائی کے طویل ادارتی مقالہ میں لکھا وی ڈورا کی مسجد اس مذہب کی جو عرب کی پسماندہ و خستہ حال سرزمین میں اب بھی زندہ ہے۔بہت بعد میں پھوٹنے والی ایک چھوٹی سی شاخ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس موجودہ وقت میں اللہ اور اس کے رسول کو یہاں حاصل کرنے میں بہت وقت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا سیکھو (۴)۔ڈنمارک کے ایک اخبار LOLLANDSTIDENDE نے اپنے ۲۵ جولائی ۱۹۶۶ء کے پہ چپہ میں لکھا :۔۔۔" آج مسلمانوں کا مذہب یعنی دین اسلام ڈنمارک میں پھیلا یا جا رہا ہے۔کوپن ہیگن کے علاقہ وی ڈورا ( HVIDOVRE) میں پہلی مسجد تعمیر ہو گئی ہے اور اس کا افتتاح بھی عمل میں آ چکا ہے۔ایک ایسے وقت میں جبکہ خود ڈنمارک کے کلیسا نے اپنے داخلی حالات کا جائزہ لیتے اور آئندہ کے لئے لائحہ عمل تیارہ کرنے کی غرض سے با قاعدہ ایک کمیشن مقرر کر رکھا ہے۔اس مسجد کا نوٹس لیتا اور اسے قابل اعتنا سمجھنا خالی از پیچسپی نہ ہوگا۔عیسائیت ڈنمارک میں ایک ہزار سال سے بھی زائد عرصہ سے قائم چلی آرہی ہے اور یہاں لیے مناد (مرد بھی اور عورتیں بھی ) موجود ہیں جنہوں نے ایسے ممالک میں عیسائیت کا پیغام پہنچایا ہے جہاں اسلام ایک مذہب کی حیثیت سے بہت مقبول ہے۔لیکن آج صورت حال مختلف ہے۔آب خود ڈنمارک میں اسلام اور عیسائیت کے درمیان مقابلہ کی طرح پڑ چکی ہے۔کلیسا کی اصلاحی تنظیم کو له سبحوالہ روز نامه الفضل ربوده ۲۵ اگست شاه ۲ روزه نامه الفضل ۲۵ / اگست ۱۹۶۶ یو صفحو ش