تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 38 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 38

ہے جو ذاتی طور پر حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہو کر دعا کی درخواست کرنے کے خیال سے قادیان سے پیدل روانہ ہو گئے۔چنانچہ ۵ اکتوبر تک قادیان میں بارش ہوتی رہی اور ذرائع آمد و رفت بالکل مسدود ہو چکے تھے مگر یہ نوجوان ، اکتوبر کو اس نیک جذبہ کو لے کر قادیان سے پیدل روانہ ہو گئے۔یہ ایسا وقت تھا جبکہ قادیان سے واہگہ سرحد تک جس طرف نظر جاتی پانی ہی پانی دکھائی دیتا تھا۔رستہ میں گاؤں کے گاؤں زیر آب تھے خشکی کا نشان نہ ملتا تھا لوگ اونچی جگہوں پر پناہ لئے ہوئے تھے۔متعدد مقامات سے ریلوے لائن ٹوٹ گئی۔سڑکیں بہہ گئیں۔چنانچہ بعض جگہ انہیں تیرنا بھی پڑا۔اکثر راستہ میں گلے گلنے تک پانی بہہ رہا تھا۔بٹالہ تحصیل اور ذیل گھر کے آس پاس سات سات فٹ پانی بڑی تیز رفتاری سے بہہ رہا تھا۔العرض صبح سات بجے چل کر ساڑھے پانچ بجے شام بڑی مشکل سے وہ امرتسر پہنچ گئے۔اگلی صبح واہگہ کی سرحد سے گزر کو لاہور آئے۔لیکن آگے راوی کے شدید سیلاب نے رستہ بالکل مسدود کر رکھا تھا۔چنانچہ اس نوجوان کو نا چارہ اور اکتوبر تک لاہور ہی میں ٹھہرنا پڑا۔آخر ۱۲ر اکتوبر کو حالات قدرے سازگار ہوئے تو یہ لاہور سے کالاشاہ کا کو تک پانی میں پیدل چل کر پہنچے۔یہ دستہ بھی سیلاب کے باعث حد درجہ خستہ اور خراب ہو چکا تھا۔پھر گوجرانوالہ کے رستہ اسی روز بخیر بیت ربوہ پہنچے گئے۔اگلے روز ۱۳ اکتوبر کو انہیں بعد نماز ظہر ستید نا حضرت المصلح الموعود کی ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور درخواست دُعا کا بھی موقعہ ملا۔حضور نے ان کے حالات سفر شنکر اظہار خوشنودی فرمایا میں کی اطلاع پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کی طرف سے انہیں حسب ذیل الفاظ میں دی گئی :- آپ جس ہمت اور کوشش سے قادیان سے لاہور اور پھر ربوہ پہنچے ہیں ان حالات کی اطلاع حضور کی خدمت میں دی گئی۔حضور نے آپ کو جزاكم الله احسن الجزا فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ قادیان کے سب درویشوں کو تیرنا سیکھنا چاہئیے کیونکہ خطرے کے وقت آتے ہی رہتے ہیں۔ایسے موقعہ بچہ ایک نہیں آنا چاہیے بلکہ دو تین ہوں اور باہمی رشتہ پکڑا ہوا -