تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 484 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 484

مقامی لوگوں نے احمدیت کو قبول کر لیا ہے اور وہ با قاعدہ نماز اور روزہ کی پابندی کرتے ہیں تو انہوں نے مسٹر محمد عبد السلام (سابق میڈسن) کا ایک مفصل انٹرویو اپنے خاص ایڈیشن میں سپر دا شاعت کیا جس میں تفصیل کے ساتھ اسلامی تعلیمات کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ازاں بعد سٹیٹ ریڈیو کی درخواست پر ہمارے اس تو مسلم بھائی نے سٹیسٹ پادری کے ساتھ ریڈیو پر مذہبی مذاکرہ میں حصہ لیا۔مذاکرہ کا موضوع نیجات تھا۔اس مذاکرہ کے بعد ملک کے تعلیمیافتہ طبیقہ میں اسلام کے متعلق عام چر چا شروع ہو گیا اور سویڈن کے حلقوں میں بھی اسلام کے بارے میں پچسپی اور بیداری کی ایک نئی لہر پیدا ہوگئی۔چنانچہ سویڈن میں بھی ایک نو مسلم کا انٹرویو شائع ہوا۔جس کے معا بعد ریڈیو نے اُن کا ایک مذہبی مذاکرہ بھی نشر کیا جو بہت اثر انگیز ثابت ہوا۔کوین میگین کے ایک اخبار کوپن ہیگین پریس میں حمیت کا چھالیا، KRISTELIGHT DAGBLAD OF COPEN HAGEN ALFRED NEILSEN نے اپنی اشاعت ۱۵ار دسمبر شاء میں ایک عیسائی مشنری کا ایک مضموت شائع کیا جس میں لکھا ” ہمیں اس سے پیچسپی ہے کہ اسلامی حملہ کا سکنڈے نیویا میں کیا نتیجہ پیدا ہوگا ؟ اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ ان لوگوں کو کامیابی ہوگی۔یہ احمدی عام مسلمانوں سے زیادہ سنجیده بیش محترم کمال یوسف صاحب نے انہی ایام میں ناروے مگی لائبر یہ یوں میں اسلامی لٹریچر ڈنمارک۔سویڈن۔فن لینڈ کی تمام مشہور لائبریریوں میں کتاب " اسلامی اصول کی فلاسفی "۔" احمدیت یعنی حقیقی اسلام " اور " لائف آف محمد " کے سیٹ رکھوائے۔علاوہ انہیں سوئیان کے ایک مشہور مستشرق کو اسلامی لٹر بنجر پیش کیا۔نومسلموں کی تعلیم وتربیت مانگی میں تخلیق سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اسلامی اس تبلیغی معاشرہ کی تعمیر کے لئے نومسلموں کی تعلیم و تربیت کی طرف خصوصی توجہ دینا بھی ضروری تھا محترم کمال یوسف صاحب نے اس پہلو کو شروع سے ہی خاص اہمیت دی۔لہ مغرب کے افق پر صفحہ ۲۶ از محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد ه ا حب۔