تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 485
۴۴۸۵ “ نومسلموں کو بڑی محنت اور توجہ سے نماز کے اسباق دیئے۔قرآن مجید ناظرہ پڑھایا اور نماز روزہ کی پابندی کا ایک غیر معمولی شوق اور ولولہ پیدا کر دیا۔جس کا ملکی پر میں نے بھی خاص طور پر چرچا کیا۔ایک اور سویڈش نو مسلم محمود ارکسن کے متعلق پریس نوٹ شائع ہوا کہ جب اُسے دواجی فوجی تعلیم کے لئے فوج میں داخل ہونا پڑا تو اس نے براہ راست بادشاہ سے نماز کو صحیح اوقات پر ادا کرنے کے لئے رخصت کی درخواست کی جسے منظور کر لیا گیا جو سویڈن کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا سب سے پہلا موقع تھا۔نماز روزہ کی پابندی کے علاوہ ابتدا ہی سے سلسلہ کی مالی قربانیوں میں بھی اس ملک کے نو مسلم سرگرم حصہ لینے لگے تھے اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام اور حضرت مصلح موعود کے لئے غیر معمولی اخلاص اور غیرت کا جذبہ بھی اُن میں پیدا ہو چکا تھا۔اس حقیقت کا اندازہ لگانے کے لئے اُن ابتدائی ایام کا صرف یہ واقعہ بیان کرنا کافی ہوگا کہ کمال صاحب نے ایک بار ایک نو مسلم نوجوان سے ووکنگ کے رسالہ اسلامک ریویو کا تازہ پر چہ طلب کیا تو اس نے جواب دیا کہ عرصہ ہوا میں نے اُسے بند کرا دیا اور بتایا کہ نہیں نے اس کا پیشگی چندہ دیا ہوا تھا۔لیکن جب اس میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان کے خلاف ایک مضمون دیکھا تو نہیں نے دو کنگ کو اطلاع دی کہ اسے میرے نام بھیجنا فورا بند کر دیں کہ جناب کمال یوسف صاحب کا بیان ہے کہ " ایک مسلمان ڈنیش انجنیر SVEND HANSAN احمدی ہونے سے قبل حضور کی ملاقات کے لئے ربوہ حاضر ہوئے اور حضرت خلیفة المسیح الثالث سے ملاقات کے بعد انہوں نے ایک دوست کو لکھا کہ ” یہ چیز مجھے پر واضح ہو چکی ہے کہ یہ شخص (یعنی حضرت خلیفہ المسیح) ہی حقیقی اسلام پیش کرتے ہیں۔یہ یقیناً خلیفہ راشد ہیں۔انسانی مسائل کا انہیں گہرا ادراک ہے اور اس قدر منکسر المزاج ہیں کہ اسی وجہ سے ہم سب کے لئے بہت اعلیٰ نمونہ ہیں۔جماعت کے وائس پریذیڈنٹ کے متعلق مشہور تھا کہ انہیں ایک خاص ملک جانے میں بہت انقباض ہے۔ایک دن حضرت خلیفہ اسیح کی ہدایت آئی کہ وہ اس علاقہ میں تبلیغی دورہ کے لئے جائیں۔انہوں نے بغیر کسی تردد کے اسی وقت جانا قبول کر لیا۔ه روزنامه الفضل ریوه مار دیسمبر وارد صفحه ۴۳۔له الفضل ۱۸ اپریل نشاء ص۳