تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 465 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 465

۴۷۶۵ کرے۔اس طنزیہ جواب سے مخلصین سیرالیون کو سخت تکلیف ہوئی مگر وہ خدائے عز و جل کے حضور فریاد کرنے اور حضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں درخواست دعا بھیجنے کے سوا اور کیا کر سکتے تھے سو انہوں نے ایسا ہی کیا۔اللہ تعالیٰ نے مسیح محمدی کے لئے ایسی غیرت دکھلائی کہ سخت مخالف حالات کے باوجود بہت جلد اس نے ایک نئے اور اعلیٰ درجہ کے پریس کا سامان کر دیا۔انگلستان سے چار مشینیں منگوائی گئیں اور ان کو علی رو جبر ز صاحب کے وقف شدہ مکانوں میں نصب کر دیا گیا۔ہوا یہ کہ مولانا محمد صدیقی صاحب امیر و انچارج منشن سیرالیون نے پریس کے لئے ایسی پر جوش تحریک کی کہ سیرالیون جیسی غریب اور نسبتا چھوٹی جماعت نے اپنے پریس کے لئے جود ہو پونڈ کی خطیر رقم جمع کر لی۔اس شاندار مالی جہاد میں جماعت کے دوسرے مخلصین کے علاوہ سید علی رو جی، احمدی پیرامونٹ چیف آنر میل ناصر الدین کا مانہ گا صاحب اور مسٹر قائم جاب سیکشن چیف خالا نے نمایاں حصہ لیائیے حضرت مصلح موعود ہ کو اس روح پرور واقعہ کی اطلاع پر بے انداز مسترت ہوئی اور آپ نے ۱۲۹ جون ۱۹۵۶ء کے خطبہ جمعہ میں اس تازہ نشان کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا :- اس مہفتہ میں مجھے ایک مبلغ کی طرف سے ایک چھٹی آئی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔اس کے بعد اپنا ایک ذاتی واقعہ اس کے ثبوت کے طور پر بیان کروں گا۔وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے یہاں اخبار جاری کیا اور چونکہ ہمارے پاس کوئی پریس نہیں تھا۔اس لئے عیسائیوں کے پریس میں وہ اخبار چھپنا شروع ہوا۔دو چار پرچوں تک تو وہ برداشت کرتے چلے گئے لیکن جب یہ سلسلہ آگے بڑھا تو پادریوں کا ایک وفد اس پریس کے مالک کے پاس گیا اور انہوں نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اپنے پریس میں ایک احمدی اخبار شائع کر رہے ہو۔له الفضل ۲۲، ۲۵ جولائی ۱۵۶ء هست رونا شه ) و مخلص خط مولانا محمد صدیق تصاب امرتسری ۱۵ر جولائی سه