تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 466
ا جس نے عیسائیوں کی جڑوں پر تبر رکھا ہوا ہے۔چنانچہ اسے غیرت آئی اور اس نے کہہ دیا کہ آئندہ یہ تمہارا اخبار اپنے پریس میں نہیں چھاپوں گا۔کیونکہ پادری اس پر برا مناتے ہیں جب اپنا اخبار چھینا بند ہو گیا تو عیسائیوں کو اس سے بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے ہمیں جواب دینے کے علاوہ اپنے میں بھی ایک نوٹ لکھا۔کہ ہم نے تو احمدیوں کا اخبار چھاپنا بند کر دیا ہے۔اب ہم دیکھیں گے کہ اسلام کا خلا اُن کے لئے کیا سامان پیدا کرتا ہے۔یعنی پہلے ان کا اخبارہ ہمارے پریس میں چھپ جایا کرتا تھا۔اب چونکہ ہم نے انکار کر دیا ہے۔اور ان کے پاس اپنا پر میں کوئی نہیں اس لئے آب ہم دیکھیں گے کہ یہ خوشیح کے مقابلے میں اپنا خدا پیش کیا کرتے ہیں اس کی کیا طاقت ہے۔اگر اس میں کوئی قدرت ہے تو وہ ان کے لئے خود سامان پیدا کر دے وہ مبلغ لکھتے ہیں کہ جب میں نے یہ پڑھا تو میرے دل کو سخت تکلیف محسوس ہوئی۔اور میں نے سمجھا کہ گو ہماری یہاں تھوڑی سی جماعت ہے لیکن بہر حال میں انہیں کے پاس جا سکتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ اس موقع پر وہ ہماری مدد کویں تا کہ ہم اپنا پریس خرید سکیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے لاری کا ٹکٹ لیا اور پونے تین کو میل کے فاصلہ پر ایک احمدی کے پاس گیا تا کہ اسے تحریک کروں کہ وہ اس کام میں حصہ لے۔یہ شخص جس کے پاس ہمارا مبلغ کیا کسی زمانہ میں احمدیت کا شدید مخالف ہوا کرتا تھا۔اتنا سخت مخالف کہ ایک دفعہ کوئی احمدی اس کے ساتھ دریا کے کنارے جا رہا تھا کہ اس احمدی نے تبلیغ شروع کردی وہ دریا کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا کہ دیکھو یہ دریا اُدھر سے ادھر بہہ رہا ہے کرکے رہا اگر یہ دریا یک دم اپنا رخ بدل لے اور نیچے سے اوپر کی طرف اللہ بہنا شروع کر دے تو یہ ممکن ہے لیکن میرا احمدی ہونا نا ممکن ہے مگر کچھ دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ کوئی بڑا عالم فاضل نہیں بلکہ ایک لوکل افریقین احمدی اس سے ملا اور چند دن اس سے باتیں کیں تو وہ احمدی ہو گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی مدد کی اور اس کی مالی حالت پہلے سے بہت اچھی ہو گئی وہ افریقین اپنے گاؤں کا چیف یعنی رئیس ہے مگر ہمارے ملک کے رئیسوں اور اُن کے رئیسوں میں فرق ہوتا ہے۔اُن کے رئیس اور چیف عموما ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ہمارے ہاں نمبر دار اور سفید پوشش ہوتے ہیں، گو بعض چیف بڑے بڑے بھی ہوتے ہیں مثلاً لنڈن میں میری ریسپشن کے موقعہ پر جوا فریقین چیف آیا اس کے ماتحت تین لاکھ آدمی تھا۔گویا ریاست پٹیالہ سے بھی۔۔RECEPTION