تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 462 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 462

کیا تو دوسری طرف دنیا کے متعدد ممالک مثلاً ٹیونس ، نیکوسلا واکیہ اور مراکش تک احمدیت کی آواز پہنچانے کا سامان کر دیا۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے خطبہ جمعہ ۱۵ جون ۹۵۶ یو میں خدا تعالیٰ کے ان تازہ افضال اور تصرفات پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا :- از دنیا اس وقت اسلام کی پیاسی ہے اور وہ ہم سے مبلغین اور لٹریچر کا مطالبہ کر رہی ہے کل ہی ایک ایسے ملک سے چھٹی آئی ہے کہ جہاں مسلمانوں کی بڑی بھاری تعداد ہے۔وہاں ایک شخص نے قرآن کریم کا دیباچہ جو میرا لکھا ہوا ہے جرمنی میں پڑھا اور پھر اس نے لکھا کہ میں نے آپ کا دیباچہ پڑھا ہے اور نہیں اس سے بڑا متاثر ہوا ہوں۔اگر ہماری زبان میں آپ اسے شائع کر دیں تو ہمارے ملک میں تیس لاکھ مسلمان ہیں ان کے متعلق آپ سمجھ لیں کہ وہ فوراً آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے مگر سوال یہ ہے کہ جو کام شروع ہیں اگر وہی پورے نہ ہو رہے ہوں تو ہم نے کام کسی طرح شروع کر سکتے ہیں ورنہ دنیا میں ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جن یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کئی ممالک جن میں اس وقت عیسائیت کو غلبہ حاصل ہے اگر ان میں تبلیغ کی جائے اور لٹریچر پھیلایا جائے تو وہ بہت جلد احمدی ہو جائیں گے۔۔۔۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کرسی بلند سے بلند تر ہوتی چلی جائے گی۔خواہ ساری عیسائی دنیا زور لگا لے۔ساری ہندو دُنیا زور لگائے۔ساری یہودی دنیا نہ ور لگا لے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کرسی کو کھینچنے والا کوئی انسان پیدا نہیں ہوا۔وہ آسمان کی بلندیوں کی طرف اڑتی چلی جائے گی اور اگر زمین کے لوگ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کرسی پر نہیں بیٹھنے دیں گے تو آسمان سے خدا اُترے گا اور وہ خود آپ کو اس کرسی پر بٹھائے گا یہ خدائی قضا ہے جو بہر حال پوری ہو کہ رہے گی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا شعر ہے کہ ملک قضائے آسمان است این بہر حالت شود پیدا یہ آسمان کی قضا ہے اور اس نے ہو کہ رہنا ہے نہ امریکہ کی طاقت ہے۔نہ اسرائیل کی طاقت ہے، نہ روس کی طاقت ہے ، نہ انگلستان کی طاقت ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کرسی سے اتار سکے بسپین کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے۔پچھلے دس پندرہ سال اتار۔میں وہاں تین حکومتیں بدل چکی ہیں۔لیکن پھر بھی اگر بعض حکومتیں فرض شناسی سے کام نہیں