تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 461
الالم اب ہیں اور اُن کے تعلقات بھی ویسے ہی تھے جیسے اب ہیں لیکن دُعاؤں اور درود کی طرف اُن کی زیادہ توجہ نہیں تھی لیکن جب میری بیماری کی خبریں شائع ہو ہمیں تو انہوں نے اپنے بزرگوں کو دیکھا کہ دعائیں کر رہے ہیں تو انہوں نے بھی دُعائیں کرنی شروع کر دیں پھر انہوں نے سنا کہ درود سے دُعائیں زیادہ سنی جاتی ہیں۔اس پر انہوں نے بھی درود پڑھنا شروع کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تھے تو پچیس پچیس چھیں چھبیس سال کے لیکن پہلے انہیں رویا و کشوف نہیں ہوتے تھے لیکن ان دعاؤں اور درود کی کثرت کی وجہ سے یکں دیکھتا ہوں کہ درجنوں احمدیوں کو بڑی اعلیٰ درجہ کی خواہیں آنی شروع ہو گئیں ہیں۔اور ہر ڈاک میں ایسے کئی خطوط نکل آتے ہیں جن میں خوابیں درج ہوتی ہیں۔بعض دفعہ روزانہ پانچ پانچ چھ چھ خط اکٹھے آجاتے ہیں۔جن میں خوابیں درج ہوتی ہیں۔اور ان میں سے بعض اتنی شاندار ہوتی ہیں کہ اُن کے پڑھنے سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ خدائی سویا ہیں۔یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ چاہے میری ہماری a کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے لیکن بہر حال ان کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور چاہے انہوں نے دعا کی قبولیت کے لئے ہی درود پڑھا، مگر درود کی برکات سے انہیں حقہ مل گیا۔چنانچہ ان دعاؤں اور درود اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کے نتیجہ میںایسی ایسی خواہیں دوستوں کو آرہی ہیں کہ انہیں پڑھ کر حیرت آتی ہے اور ان کا لفظ لفظ بتا رہا ہوتا ہے کہ سیتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اگر یہ تحفہ جو ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے اس سے ان کے اندر حقیقی لذت ایمان پیدا ہو گئی اور انہوں نے گاؤں اور ذکر الہی کی عادت کو ترک نہ کیا تو یہ رویا و کشوف کا سلسلہ ان کے لئے مستقل طور پر جاری ہو جائے گا اور اللہ تعا کے فضل ران پر متواتر نازل ہونے شروع ہو جائیں گے۔یونی زیکوسلا واکی اور مراکش میں اشاعت اهمیت به سال تبلیغ اسلام اور اشاعت احمدیت کے اعتبار سے بہت اہم سال تھا جس میں ایک طرف اگر حکومت سپین نے تبلیغ دین کی بندش کا فیصلہ ه روزنامه الفضل ریوه ۲۲ جون ۱۹۵۶ ۶ صفحه ۳ (ایضاً ۲۹ مئی ۱۵۶ صفحه ۲)