تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 463
لیں گی اور تفکر کرنا شروع کر دیں گی تو اللہ تعالی اس فلم کو برداشت نہیں کرے گا اور خدا خود انہیں مجبور کرے گا کہ وہ اسلام کے راستہ سے روکیں دورہ کریں۔بلکہ اللہ تعالیٰ ہمارے مبلغوں کو اگر عقل دے تو اب بھی وہ ایسے سامان پیدا کر رہا ہے جن سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے پچھلے دنوں ٹیونس کا ایک شہزادہ جو تخت کا وارث تھا منصر میں آیا اور احمدی ہو کہ چلا گیا۔مگر ہمارے مبلغوں نے یہ غلطی کی کہ اس سے تعلق نہیں رکھا اسی طرح الحجز ائمہ کا ایک نمائندہ پچھلے دنوں آیا اور مجھے ملا اور کہنے لگا کہ مولوی آپ کی مخالفت کیوں کرتے ہیں میں نے خود احمدیت کا مطالعہ کیا ہے اور مجھے اس کی تعلیم بڑی اچھی نظر آتی ہے کہیں نے کہا یہ اُن سے پوچھو کہ وہ کیوں مخالفت کرتے ہیں۔کہنے لگا میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ وہ ایسی اچھی باتوں کی کیوں مخالفت کرتے ہیں۔اسی طرح زیکو سلو یکیا کا ایک نمائندہ مجھے زیورک میں ملا اور کہنے لگا کہ میں احمدی ہونا چاہتا ہوں۔میں نے کہا جلدی نہ کرو۔پہلے مولویوں کی باتیں کشن اور ایسا نہ ہو کہ بعد میں ان کی باتیں شنکر کہنے لگ جاؤ کہ اب میں مرتد ہونا چاہتا ہوں۔پھر میں نے اسے اختلافات بتائے اور کہا کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں اور وہ انہیں آسمان پر زندہ سمجھتے ہیں۔ہم قرآن کی کسی آیت کو منسوخ نہیں کجھتے مگر وہ کئی آیات کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔اس طرح ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کے لئے تلوار کی ضرورت نہیں مگر وہ جہاد کا یہی مفہوم سمجھتے ہیں کہ تلوار کے ساتھ غیر مسلموں کی گردنیں کا ٹ دی جائیں۔وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ آپ کیا باتیں کر رہے ہیں۔ہمارے ملک کے لوگ پہلے ہی ان باتوں کو مانتے ہیں ہمارے ملک میں تعلیم زیادہ ہے اس لئے کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ سمجھتا ہو پھر ہمارے ملک میں ٹیٹو کی حکومت ہے۔اگر ہم لوگوں کو ہر مسئلہ بتائیں گے کہ غیرمسلموں کو قتل کو نا جائز ہے تو ٹیٹو پہلے ہماری گردنیں کاٹے گا اور کہے گا کہ تمہیں تو جب تلوار ملے گی دیکھا جائے گا پہلے نہیں تمہاری گر نہیں اڑاتا ہوں۔ہماری عقل ماری ہوئی ہے کہ ہم اسی مسئلہ کو تسلیم کریں۔باقی رہا قرآن میں منسوخی کا سوال۔سو یہ بات بھی بالکل واضح ہے اگر مان لیا جائے کہ قرآن میں بعض منسوخ آیات نہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ سارا قرآن ہی قابل اعتبار نہیں۔ہم ایسے بے وقوف نہیں کہ ان باتوں کو مان لیں۔آپ بے شک تستی رکھیں۔مولویوں کا نہ ہم پر اثر ہو سکتا ہے اور نہ میرے ملک کے دوسرے