تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 444 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 444

م م م میں حضور کی زیارت کا ذکر تھا۔* اس طلبہ میں شاہ صاحب“ کے بارے میں متعدد اخبارات کی رپورٹ یہ ہے۔انہوں نے رمایا کہ مولانا محمدعبدالله در خواستی کو ایک خواب آیا۔ان سے حضور خاتم النبیین صلی الہ علیہ وسم نے فرمایا ” میری نبوت پر کتے بھونک رہے ہیں اور انہیں بند کرنا مولوی محمد عبداللہ درخواستی اور عطاء اللہ شاہ بخاری کا کام ہے " شاہ صاحب نے کہا کہ حضور خاتم النبیین نے میرے نام پیغام دیا ہے کہ میں ختم نبوت کے مسئلہ کو کامیابی سے چلاؤں " ہم نے ان رپورٹوں کو سخت ذمتی اذیت اور دلی کوفت کے ساتھ کے پڑھا اور یہاں نقل کیا ہے مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اب اپنی عمر کے اس دور میں ہیں جس کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کتنے روز کے مہمان ہیں۔انہیں خود بھی اس کا احساس ہے اور ان کے مفلوج اعصاب شہادت دے رہے ہیں کہ بہر حال اب آخری مرحلہ آیا چاہتا ہے۔ظاہر ہے کہ ہر وہ شخص جو خدا پر ایمان رکھتا ہے جس کو قیامت اور جزا و سزا پر یقین ہے۔اس کی آخری خواہش بھی یہی ہوتی ہے۔اور اُس کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے شخص کی آرزو بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ عمر کے اس آخری لمحہ میں ایسے اعمال و افعال سے کنارہ کش رہے جو کل اُس کے لئے اذیت اور باز پرس کا باعث ہوں۔بلاشبہ ہم سب گناہوں میں غرق ہیں۔اور خصوصیت سے نہیں اپنی معصیتوں کا شدید احساس ہے اور ان پر اپنے رحیم و رحمان سے آقا بالحاج عفو طلب ہیں۔اور یہ بات بھی کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں کہ دنیا میں جتنے گناہ پائے جاتے ہیں۔ان میں سب سے زیادہ اہمیت تین قسم کے گناہوں کو حاصل ہے۔أول۔خدائے ذوالجلال کے بارے میں گستاخی ، ان کے سامنے کبیر اور ان پر افتراء پردازی۔دوم سید المرسلین کے ادب و احترام میں کمی ، آپ کے ناموس پر حملہ - آپ کی ذات اقدسی پر خود غرضی کے لئے افتراء پر داری۔سوم۔کسی مسلمان کی جان ، اس کے مال ، اس کی عزت اور اس کے ایمان پر حملہ۔شاہ صاحب کی جانب منسوب کردہ الفاظ اگر صحیح ہیں ، یا انہوں نے اس مفہوم کو بیان کیا ہے کہ حضور سرور کائنات روحی و نفسی خدا و صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منتخب فرمایا کہ وہ ختم نبوت کی حفاظت