تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 443
اس سال کا بجٹ پچاس لاکھ روپے کا ہو۔یہ ہے وہ جماعت جسے ہم باطل سمجھتے ہیں۔اور باطل سمجھنا کسی تعصب، ضد یا عناد وحسد پر مبنی نہیں بلکہ ہم خلوص کے ساتھ قرآن و سنت کے بینات کی روشنی میں مرزا صاحب کے دعادی کو سراسر غلط سمجھتے ہیں اور ان کی نبوت کا تسلیم کرنا ہمارے نزدیک امت محمدیہ سے خروج وانداد ہے۔آپ غور فرمائیے کہ اس جماعت کی مخالفت میں جو کام آج تک کئے گئے ہیں وہ اپنی جگہ اہمیت مقصدیت اور خلوص کے با وصف حصول مدعا کے لئے کیوں کا میاب نہیں ہو سکے ہی (۳)۔متعدد اخبارات رجن میں احرار کے حامی اخبارات خصوصیت سے قابل ذکر ہیں) کی متفقہ روایت یہ ہے کہ :۔جھنگ ۲۲ فروری ( - ناقل) گذشتہ شب نماز عشاء کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک اجلاس عام منعقد ہوا جس میں مولانا غلام قادر خطیب جامع مسجد قاضیاں مولوی محمد لقمان مظفر گڑھی، اور سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے تقاریر کیں مولوی محمد نعمان (مظفر گڑھی) نے اچھوتے انداز میں چندہ جمع کیا۔انہوں نے کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا خوب بہت بڑھ گیا ہے۔آئندہ سال کا بجٹ ایک لاکھ ہوگا۔(ایک اخبار نے اس اچھوتے انداز کی وضاحت یوں کی ہے۔جلسہ گاہ میں کپڑے کی بھولیاں بنا کر تمام حاضرین جلسہ سے فرداً فرداً چندہ دینے کے لئے کہا گیا۔اس اثناء میں اسٹیج سے مقرر صاحب سامعین کو چندہ دے کہ جنت کا ٹکٹ کٹوانے پر عجیب و غریب طریقوں سے اکساتے رہے۔۔۔۔۔۔ماشاء اللہ سوسو کے نوٹ دو اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک آپ لوگ دو ہزار روپیہ نہیں دیں گے حضرت شاہ صاحب اسٹیج پر نہیں آئیں گے۔جلدی کیجئے مولوی محمد نعمان صاحب بار بار کہ رہے تھے۔بابوو ! جنٹلمینو ! دین کی حفاظت کے لئے چندہ دو ماشاء اللہ دس دس اور سو سو کے نوٹ جلدی کرد۔رات جا رہی ہے ، جنت کے ٹکٹ کٹوا لو وغیرہ وغیرہ ) انہوں نے اپنی خالہ کا ایک خواب بیان کیا جس لے ہفت روزہ المنیر لائل پور ۲ مارچ ۱۹۵۶ء صفحہٹ ، نہ مان پڑھا نہیں جاتا۔