تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 442 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 442

۴۴۲ معتقدین کے لاکھوں روپے جمع تھے۔اور جب یہاں مہاجرین کی اکثریت بے سہارا ہو کہ آئی تو قادی ایں کا یہ سرمایہ جوں کا توں محفوظ پہنچ چکا تھا۔اور اس سے ہزاروں قادیانی بغیر کسی کاوش کے از سرتو بحال ہو گئے۔پھر یہ موضوع بھی مشخق توجہ ہے کہ یہ وہ واحد جماعت ہے جس کے ۳۱۳ افراد تقسیم کے لمحہ سے آج تک قادیان میں موجود ہیں۔اور وہاں اپنے مشن کے لئے کو شاں بھی ہیں اور نظم بھی۔دوسرا پہلو تعمیر ربوہ کے سلسلہ میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ہم اسے تسلیم کرتے ہیں کہ سابق (حکومت) کے ایک انگریز گورنر نے بہت سستے داموں ربوہ کی زمین قادیانیوں کو دیدی تھی لیکن کیا اس حقیقت کا انکار ممکن ہے کہ اس زمین سے لاکھوں رو پیر صدر انجین احد یہ ربوہ نے کہا یا اور اس سے شاندار بلڈنگیں اور جماعتی ضروریات کے لئے عمارات تعمیر کیں اور آج یہ بات پورے وثوق کے ساتھہ کہی جا سکتی ہے کہ دنیا میں ربوہ وہ واحد شہر ہے جس میں مرزا غلام احمد صاحب کو نبی اللہ تسلیم کرنے والوں کی اپنی حکومت ہے۔ان کا اپنا نظام عدالت ہے۔اس کا اپنا خلیقہ ہے جس کا ہر حکم واجب التعمیل ہے۔اس کا اپنا سر کاری بینک ہے۔جس میں قادیانیوں کا لاکھوں روپیہ تجارت ، صنعت اور حرفت کے کاموں پر لگا ہوا ہے۔اس یہ کوہ میں ہو فوجی ٹینینگ ، تبلیغی تربیت ، سائنس وفلسفہ کی اعلی تعلیم و صنعت و حرفت کی تعلیم کا اہتمام اسی طرح موجو د ہے۔جس طرح کا انتظام منظم حکومتیں کیا کرتی ہیں۔قادیانی تنظیم کا تیسرا پہلو وہ تبلیغی نظام ہے جس نے اس جماعت کو بین الاقوامی جماعت بنا دیا ہے۔اس سلسلے میں یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینے کی ہے کہ :۔• بھارت کشمیر، انڈونیشیا ، اسرائیل ، جرمنی ، ہالینڈ، سوئٹزر لینڈ ، امریکہ۔برطانیہ ، دمشق ، نائیجیریا • افریقی ملتے اور پاکستان کی تمام قادیانی جماعتیں مرزا محمد احمد صاحب کو اپنا امیر اور خلیفہ تسلیم کرتی ہیں اور ان کے بعض دوسرے ممالک کی جماعتوں اور افراد نے کروڑوں روپوں کی جائیدا دیں صدر انجمن احمدیہ یہ توہ" اور صدر انجمین احمدیہ قادیان کے نام وقف کر رکھی ہیں۔تیسرا پہلو قابل توجہ یہ ہے کہ قادیانیوں کا منصوبہ آئندہ سال ۵۶ - ۱۹۵۶ء کے لئے یہ ہے۔