تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 441
الم لم نہ ندگیاں کھلے فاحش سے آسودہ ہیں۔اور اپنے آپ کو الہام الہی کا مورد قرار دیتے ہیں اور اس حقیقت سے کما حقہ آگاہ ہونے کے باوصف کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس کے قانون جزا و سزا پر یقین نہیں رکھتے بایں ہمہ وہ محبت الہی اور احساس آخرت پر مواعظ اور خطبے دے کہ اپنے مریدوں کو دام تزویز میں پھنسائے ہوئے ہیں۔لیکن ہم کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ قادبیاتی عوام میں ایک معقول تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اخلاص کے ساتھ اس سراب کو حقیقت سمجھ کر اس کے لئے مال و جان اور دنیوی وسائل و علائق کی قربانی پیش کرتی ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے بعض افراد نے کابل میں سزائے موت کو لبیک کہا۔بیرون ملک دور دراز علاقوں میں غربت و افلاس کی زندگی اختیار کی۔اور عین اُس وقت کہ جب قادیانی خلافت سے متعلق حضرات بیش قیمت مقوی ادویات کو آب و دانہ کی طرح استعمال کرتے اور بیک وقت چار چار بیویوں کے جلو میں اپنے عشرت کدوں میں مسرت و عیش کے شب و روز گزارتے تھے۔یہ مخلص لوگ نائیجیریا، جرمنی اور اسرائیل میں ایسے لوگوں کے ماتحت افلاس کے باوجود کام کر رہے تھے جو بین الاقوامی سازشوں کے کرتا دھرتا تھے۔بہر نوع قادیانی باطل کے قیام و ثبات میں ” مقصد کی لگن اور اس کے ایثار" کا جیمز وحتی ایک ایسا جو ہر ہے جس نے اس گروہ کو معتد بہ فائدہ پہنچایا ہے۔تیسرا پا یہ جس پر قادیانی قصر قائم ہے۔وہ تنظیم ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابتداء انگریز کا مقادر قادیانی جماعت کے معرض وجود میں لانے کا محرک تھا۔لیکن یہ حقیقت تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ حکیم نور الدین صاحب اور ان کے بعد مرزا محمود احمد صاحب کی انتظامی صلاحیتوں نے قادیانی جماعت کو بہت بڑی اولاد بہم پہنچائی ہے۔قادیانی خلیفہ ایک چالاک قسم کے سیاسی راہ نما ہیں۔جو خود تو آمریت مطلقہ کے مدعی ہیں۔اور اُن کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ ان کا تقریر بھی خدا کی جانب سے ہوا ہے۔اور معزول بھی انہیں خدا ہی کر سکتا ہے۔لیکن انہوں نے اس کے باوجود اپنی جماعت کو جس طریق پر منظم کیا ہے چاہے وہ مستقبل میں ایک خطرناک غبارہ ہی ثابت کیوں نہ ہو۔ہم اس کی وضاحت آئندہ کے مباحث میں کریں گے مگر اس وقت تک اس نظم کے تین پہلو ہم اپنے ناظرین کے سامنے پیش کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔تقسیم ملک کے وقت مشرقی پنجاب کی یہ واحد جماعت تھی جس کے سرکاری خزانہ میں اپنے