تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 440 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 440

مام تعارف ان کے ذریعہ کرایا جارہا ہے۔اور جب تک کوئی صحیح العقیدہ گروہ آگے بڑھ کہ کرہ ارض کے تمام باشندوں میں اسلام کی دعوت کا بیڑہ نہیں اُٹھا لیتا۔عین ممکن ہے کہ صرف اس کام کے لئے اس جماعت کو نعمت زندگی عطا کی جائے۔غیر مسلم ملک میں قرآنی تراجم اور اسلامی تبلیغ کا صرف اسی اصول " نفع رسانی کی وجہ سے قادیانیت کے بقا اور وجود کا باعث ہی نہیں ہے۔ظاہری حیثیت سے بھی اس کی وجہ سے قادیانیوں کی ساتھ قائم ہے ایک عبرت انگیز واقعہ خود ہمارے سامنے وقوع پذیر ہوا ۵۶ او میں جب جسٹس منیر انکوائری کورٹ میں علم اور اسلامی مسائل سے دل بہلا رہے تھے اور تمام کلم جماعتیں قادیانیوں کو غیر مسلم ثابت کرنے کی جدو جہد میں مصروف تھیں۔قادیانی عین انہی دنوں ڈرچ اور بعض دوسری غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ قرآن مکمل کر چکے تھے۔اور انہوں نے انڈونیشیا کے صدر حکومت کے علاوہ گورنر جنرل پاکستان مسٹر غلام محمد اور جسٹس منیر کی خدمت میں یہ تراجم پیش کئے گویا وہ زبان حال وقال یہ کہ رہے تھے کہ ہم ہیں وہ غیر مسلم اور خارج از ملت اسلامیہ جماعت جو اس وقت جب کہ ہمیں آپ لوگ " کافر قرار دینے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ہم غیر مسلموں کے سامنے قرآن اُن کی مادری زبان میں پیش کر رہے ہیں۔غور فرمائیے ان ائیے ان لوگوں کا تاثر کیا ہوگا ؟ اور قادیانیوں کا یہ کام ان کی زندگی اور ترقی میں کسی متریک ممدو معاون ہے ؟ مقصد کی لگن اور ایشیار، یہ جو سر بھی جس گروہ یا فرد میں پایا جائے گا وہ پڑھے پھوٹے گا۔اور اس میں قدرت کفر و اسلام کے امتیاز کے بغیر تیار کرنے والے کو نتائج سے بہرہ ور کرتی ہے۔قادیانیوں نے گذشتہ پچاس سال میں اندرون اور بیرون ملک اپنی اسلامی زندگی کو قائم رکھنے اور قادیانی تحریک کو عام کرنے کے سلسلے میں جدوجہد کی ہے۔اس کا یہ پہلو نمایاں ہے کہ انہوں نے اس کے لئے ایثار و قربانی سے کام لیا ہے۔ملک میں ہزاروں اشخاص ایسے ہیں جنہوں نے اس نٹے مذہب کی خاطر اپنی برادریوں سے علیحدگی اختیار کی۔دنیوی نقصانات برداشت کئے اور جان و مال کی قربانیاں پیش کیں۔بلاشبہ ہم ان لوگوں کو غیر خلص سمجھتے ہیں۔جو اپنے متعلق یہ جانے کے باوجود کہ ان کی