تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 439
۴۳۹ ہے کہ اس کائنات میں سنت اللہ الہی قانون تاند) یہ ہے کہ خاطر کائنات نے چند ایسے ضوابط قائم کر رکھے ہیں کہ جو گروہ دخواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر ) انہیں اپنا لے وہ قائم بھی رہے گا اور مادی و ظاہری اعتبار سے ارتقاء و عروج بھی حاصل کرتا رہے گا۔(1) پہلا ضابطہ قیام و ارتقاء یہ ہے وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ۔ہر وہ چیز جو انسانیت کے لئے نفع رساں ہو اسے زمین پر قیام و بقا عطا ہوتا ہے۔رحیم ورحمان کی رحمت کا جوش اور دوام متقاضی ہے کہ انسانیت بڑھے، پھولے اور ترقی پائے۔اسی مقصد کے لئے کائنات میں " نفع رسانی " کا عنصر سب پر غالب رکھا گیا ہے۔اور جس چیز میں یہ تو ہر جب تک موجود رہتا ہے اس کی حفاظت عنا صر فطرت کے ذمہ بطور فرض عائد ہے۔درخت کے پتے خواہ کانٹے دار درختوں کے ہوں یا پھلدار اشجار کے ، جب تک زہریلے گیسوں کو جذب کرتے اور صحت اور ہوا باہر پھینکتے رہتے ہیں۔درخت کی جڑ انہیں غذا بہم پہنچاتی رہتی ہے۔لیکن جونہی ان کی افادیت ختم ہو جاتی ہے ٹہنیاں انہیں اپنے جسم سے کاٹ دیتی ہیں اور وہ ایندھن کی شکل میں بھاڑوں اور چوہلوں میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔قادیانیت میں نفع رسانی کے جو جو ہر موجود ہیں ان میں اولین اہمیت اس جدوجہد کو حاصل ہے جو اسلام کے نام پر وہ غیر مسلم ممالک میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ لوگ قرآن مجید کو غیر ملکی زبانوں میں پیش کرتے ہیں تثلیث کو باطل ثابت کرتے ہیں۔سید المرسلین کی سیرت طیبہ کو پیش کرتے ہیں۔ان ممالک میں مساجد بنواتے ہیں۔اور جہاں کہیں ممکن ہو اسلام کو امن وسلامتی کے مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔کہا جا سکتا ہے اور ہم خود اسے زیادہ شدت کے ساتھ کہتے ہیں کہ قادیانی حضرات دین کی تخریف کرتے ہیں۔وہ اس سیرت رسول کے تصور سے ہی محروم ہیں۔جو انبیا وعلیہم السلام نے پیش کی تھی۔یہ بھی بجا ہے کہ وہ اس دودھ میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی مسیحیت کے زہر کو یہ ہے کہ وہ میں " ملا کہ پیش کرتے ہیں۔لیکن بایں ہمہ یہ امر قابلِ اعتراف ہے کہ " فَيُبلغ الشاهِدُ الْغَابُ" کا فرض جو امت محمدیہ پر عائد کیا گیا تھا۔امت کی کوتاہی کے باعث معطل یا کم از کم نیم معطل تھا۔اس باطل گروہ کے ذریعہ اسلام اور صاحب اسلام کا رسمی تعارف اور بعض حقوں میں تفصیلی