تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 420 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 420

۴۲۰ تابعین اور پھر تبع تابعین سے بھی اُن کے درجات کے مطابق برکت حاصل کی جائے گی۔کیا تم نے دیکھا نہیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنے فاصلے پر تھے۔لیکن بغداد کے بادشاہ اُن سے برکت ڈھونڈتے تھے۔بلکہ صرف انہیں سے برکت نہیں ڈھونڈتے تھے بلکہ ان کے شاگردوں سے بھی برکت ڈھونڈتے تھے۔پس تم اللہ تعالی سے دعائیں کرتے رہو کہ طاقت مل جانے کے بعد کہیں حکم نہ کرتے لگ جاؤ۔اور تمہاری امن پسندی عصمت بی بی از سیله چادری والی نہ ہو۔اگر تم طاقت ملنے پر ظالم بن جاؤ گے تو تمہاری آج کی نرمی بھی ضائع ہو جائے گی اور خدا تعالے کہے گا کہ اپنے تو تمہارے ناخن ہی نہیں تھے اس لئے تم نے سر کھجلانا کیسے تھا۔اب میں نے تمہیں ناخن دیے ہیں تو تم نے سر کھجلانا بھی شروع کر دیا ہے۔پس تم خوشی منانے کے ساتھ ساتھ استغفار بھی کرتے رہو اور اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی دعائیں کرو کہ وہ اس آزادی کو سب کے لئے مبارک کرے پھر جن لوگوں کے ہاتھ میں اس وقت ملک کی باگ ڈور ہے ان کے لئے بھی دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ انہیں سچی نیکی اور تقویٰ اور انکسار عطا کرے جو ایک مومن کا خاصہ ہے۔صحابہ کرام کو دیکھ لو باوجود اس کے کہ انہیں ہر قسم کی بڑائی حاصل تھی۔ان میں حد درجہ کا انکسار پایا جاتا تھا اور غرور سے وہ کوسوں دور رہتے تھے۔حضرت خالد بن ولید ہی کو دیکھ لو۔انہوں نے چند آدمیوں کے ساتھ رومی حکومت سے ٹکر لے لی تھی حالانکہ اس وقت کی رومی سلطنت اس وقت ہندوستانی حکومت سے بھی بہت زیادہ طاقت ور تھی اور خاللہ کے ساتھی خواہ اس وقت کتنے بھی زیادہ ہوں۔بہر حال پاکستان کی طاقت سے کم طاقت رکھتے تھے۔لیکن انہوں نے رومی حکومت سے ٹکر لی اور پھر اس جنگ میں فتح حاصل کی۔اسی خالدہ کو بعض وجوہات کی بناء پر حضرت عمر نے کمانڈر ان چیف کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ان کی عمر برطرفی کا ڈر ڈر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے ذریعہ بھیجا گیا تھا حضرت ابو عبیدہ نے حضرت خالد کے ماتحت کام کیا تھا اور وہ جانتے تھے کہ اسلامی فتوحات میں ان کا بہت بڑا دخل ہے۔انہیں خیال گذرا کہ شاید خالدہ کو برطرفی کا حکم بُرا لگے۔اس لئے انہوں نے فوری طور پر اس کا اعلان نہ کیا۔لیکن بعض لوگوں کو اس کا پتہ لگ گیا اور انہوں نے خالد کو بھی تیا دیا۔یہ سنکر خالد رض حضرت ابو عبیدہ کے پاس آئے اور کہنے لگے مجھے معلوم ہوا ہے کہ میری برطرفی کے احکام آچکے ہیں۔