تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 421 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 421

۴۴۱ لیکن آپ نے مجھے نہیں بتایا جس دن آپ کے پاس میری برطرفی کے احکام آئے تھے آپ کو چاہیئے تھا کہ اس دن مجھے اطلاع دے دیتے تاکہ میں فوری طور پر خلیفہ وقت کے احکام کی تعمیل کر دیتا۔یہ میرا استعفیٰ ہے۔اسے حضرت عمریض کے پاس بھیجوا دیں اور فوج کا کام سنبھال لیں ، حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ میں حضرت علم کو بھی لکھوں گا مگر آپ سے بھی کہتا ہوں کہ میں سپہ سالاری کا عہدہ اس وقت قبول کروں گا جب آپ وعدہ کریں کہ آپ حسب سابق میرے ساتھ مل کم کام کرتے رہیں گے حضرت خالد نے کہا کہ میں آپ کی ایک سپاہی سے بھی بڑھ کہ اطاعت کروں گا۔میں نے جو خدمت کی ہے وہ کسی مرتبہ اور عزت کے لئے نہیں کی بلکہ میری ساری خدمت خدا تعالیٰ کی خاطر تھی تو دیکھو خالدہ کی بڑائی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔لیکن پھر بھی ان میں کس قدر انکسار پایا جاتا تھا۔لیکن آج کل ایک وزیر کسی وجہ سے وزارت سے ہٹتا ہے تو وہ اپنی علیحدہ پارٹی بنا لیتا ہے پس تم دعائیں کرو کہ آزادی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ ایسی روح پیدا کرے کہ جوں جوں ملک و قوم کو طاقت اور قوت ملتی جائے۔تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نالے ہوئے دین اور خدا تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کتاب قرآن کریم کو قائم کرنے کی کوشش کرتے چلے جاؤ ایسا نمونہ دکھاؤ کہ ہند و خود تمہارے پاس آئیں اور کہیں کہ ہم مسلمان بننا چاہتے ہیں اور یہ کوئی بعید بات نہیں۔آخر حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو کسی تلوار نے جیتا تھا۔پھر حضرت عثمان اور حضرت علی کو کسی تلوار نے جیتا تھا۔یہ سب لوگ قرآن کریم کی تعلیم سے متاثر ہو کہ ایمان آئے تھے۔اسی طرح اب بھی قرآن کریم کی تعلیم ہندؤوں کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کر سکتی ہے۔ایک مشہور عیسائی مصنف کا ر لائل نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اُس نے دنیا کے مشہور آدمیوں کا ذکرہ کیا ہے۔جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی شامل ہے۔اس کتاب میں وہ ایک جیگر لکھتا ہے۔عیسائی مصنف اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے لیکن دہ یہ بھول جاتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوئی کیا تو اس وقت آپ اکیلے تھے اور پھر آہستہ آہستہ لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔پس سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے بغداد میں اسلام کے لئے تلوار چلائی۔انہیں کسی تلوار سے اسلام کی طرف کھینچا گیا۔ان لوگوں کو صرف دلائل اور براہین سے ہی اسلام کی طرف مائل کیا گیا تھا۔پھر جب بڑے بڑے لوگوں کو