تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 417
الم اور رسول کریم صلی الہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث ہمارے پاس موجود ہیں۔اگر کسی معاملہ میں ہمیں محسوس ہو کہ ہم نے اس بارہ میں صحیح قدم نہیں اٹھایا تو اسے ہر وقت بدلا جاسکتا ہے حضرت علی کو دیکھ لو۔آپ فرماتے تھے کہ جب مسح کے احکام نازل ہوئے تو میں تردد میں پڑ گیا۔نہیں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے پاؤں کے اوپر مسح کرنے کا حکم دیا ہے حالانکہ مٹی تو پاؤں کے نچلے حصے کو لگتی ہے۔لیکن پھر میں نے سمجھا کہ جب خدا تعالے نے اوپر مسح کرنے کا حکم دیا ہے تو یہی درست ہے۔میرا خیال درست نہیں۔پس خدا تعالیٰ کے مقابلے میں انسانی عقل کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ بڑے بڑے برگزیدہ لوگوں کی عقلیں بھی اس کے سامنے ہیچ ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم دی ہے کہ ہر وقت یہی دُعا کرو کہ اے اللہ میرے علم کو بڑھا گویا ایک ایسا شخص جو علم کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ہے فَكَانَ تَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى کا مقام حاصل تھا جس کے متعلق اللہ تعالے نے یہ فرمایا کہ ہم نے اسے وہ علم دیا ہے جو کسی اور کو نہیں دیا۔اسے بھی رب زدني علما کی دعا سکھائی گئی۔پس خدا خدا ہی ہے اور بندہ بندہ ہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باوجود اس کے کہ افضل الدرس اور خاتم النبیین تھے پھر بھی علم حاصل کرنے کے محتاج نہ ہوتے تو خدا تعالی آپ پر قرآن کریم کیوں نازل کرتا یہیں فرما دیتا کہ تم خود ہی غور کر کے انسانوں کے لئے ایک لائحہ عمل بنا دو۔لیکن خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ خود قرآن کریم نازل کیا اور بسم اللہ کی سب سے لے کر والناس کی سی تک ایک مفصل کتاب نازل کر دی۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا انسان بھی یہ دعا کہ تار متا تھا کہ الہی میرا علم بڑھا تو پاکستان کی کانسٹی ٹیوشن پر یہ شور مچانا کہ چونکہ اس میں بعض غلطیاں رہ گئی ہیں اس لئے یہ قابل قبول نہیں کونسی معقول بات ہے۔یہ کانسٹی ٹیوشن خدا تعالیٰ کی تیار کردہ نہیں بلکہ انسانوں کی بنائی ہوئی ہے اور انسانوں کے کاموں میں بہر حال غلطیاں رہ جاتی ہیں۔اس لئے اس پر جھگڑنا اور شور مچانا بے معنی بات ہے۔یکیں اس موقع پر ایک بات اپنی جماعت سے بھی کہنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالے سورۃ التین میں فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو اعلیٰ درجہ کی قوتیں دے کہ دنیا میں بھیجا ہے لیکن بعض دفعہ اس میں