تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 418 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 418

مام ایسا بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے حصہ میں گر جاتا ہے۔یہی حال قوموں کا ہوتا ہے۔بعض اوقات جب قوموں پر غلامی کا دور ہوتا ہے تو وہ کہتی ہیں کہ کاش ہمیں آزادی حاصل ہوتی تو ہم ملک کی خاطر کوئی اہم کام کرتیں۔لیکن جب انہیں آزادی ملتی ہے اور انہیں طاقت اور دولت میسر آجاتی ہے تو اُن کے اخلاق خراب ہو جاتے ہیں وہ اپنوں اور ہمسایہ قوموں کا جانی اور مالی نقصان کرنے لگ جاتی ہیں۔اور قتل و غارت کو اپنا شیوہ بنالیتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے کہ بعض لوگوں کو جب ملک میں کوئی اقتدار حاصل ہوتا ہے تو وہ مظالم پر اتر آتے ہیں اور اقتصادی اور نسلی طور پر دوسروں کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس جہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزادی دی ہے وہاں ہمارے لئے یہ خطرہ بھی ہے کہ ہم کہیں اس آزادی کا غلط استعمال نہ کرنے لگ جائیں اور بنی نوع انسان کو چاہے وہ ہمارے ملک کے ہوں یا دوسرے ممالک کے کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی صحابیہ سے بعض غلطیاں ہوئیں، مگر رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کو جب بھی ان کا علم ہوا۔آپ نے فورا ان کا تدارک کر دیا مثلاً ایک دفعہ آپ نے کچھ صحابہ کو با ہر خبر رسانی کے لئے بھجوایا۔دشمن کے کچھ آدمی ان کو حرم کی حد میں مل گئے صحابیہ نے اس خیال سے کہ اگر ہم نے ان کو زندہ پھوڑ دیا تو یہ جا کہ مکہ والوں کو خبر دیں گے اور ہم ہمارے جائیں گے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک شخص لڑائی میں مارا گیا۔جب یہ خبریں دریافت کرنے والا قافلہ مدینہ واپس آیا تو پیچھے پیچھے مکہ والوں کی طرف سے بھی ایک وفد شکایت لے کر آگیا کہ انہوں نے حرم کے اندر ایک آدمی مار دیا ہے جو لوگ حرم کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وستم پر ظلم کرتے رہتے تھے۔ان کو جواب تو یہ ملنا چاہیے کہ تم نے کب حرم کا احترام کیا ہے کہ تم ہم سے حرم کے احترام کا مطالبہ کرتے ہو۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب نہ دیا بلکہ فرمایا کہ ہاں بے انصافی ہوئی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ اس خیال سے کہ حرم میں وہ محفوظ ہیں انہوں نے اپنے بچاؤ کی پوری کوشش نہ کی ہو۔اس لئے آپ لوگوں کو خون بہا دیا جائے گا۔چنانچہ آپ نے قتل کا وہ فدیہ جس کا عربوں میں رواج تھا۔ان کے ورثاء کو ادا کیا۔اس طرح ایک دفعہ میدان جنگ میں آپ نے ایک عورت کی لاش دیکھی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے