تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 416
خصوصاً جماعت احمدیہ کو انکی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی چنانچہ ارشاد فرمایا :- " آج کا دن حکومت پاکستان نے ملک کی کانسٹی ٹیوشن بننے پر خوشی منانے کے لئے مقرر کیا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ خوشی کا دن ہے 11 ء میں میں نے جو لیکچر دیئے تھے۔- اُن میں میں نے یہ بیان کیا تھا کہ مسلمان جو بھی آئین بنائیں وہ اسلامی ہی ہوگا۔آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک سچا مسلمان کوئی آئین بنائے اور وہ غیر اسلامی ہو۔مسلم کے معنے فرمانبردار کے ہیں۔مسلم کے معنے ہی خدا اور اس کے رسول کے ماننے والے کے ہیں۔اگر کوئی شخص خدا اور اس کے رسول کو ماننے والا ہے اور سچے طور پر ان کا فرمانبردار ہے تو وہ ایسا قانون بنائے گا ہی کیوں جو غیر اسلامی ہوگا۔پس ایسی اسمبلی جو سچے مسلمانوں پر مشتمل ہو غیر اسلامی دستور بنا ہی نہیں سکتی۔ہماری کانسٹی ٹیوشن تو پہلے سے ہی قرآن کریم میں موجود ہے اور اس کی توضیح اور تشریح کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث موجود ہیں لیکن اس پر غیر مسلموں کو تسلی نہیں تھی۔وہ سمجھتے تھے کہ قرآن کریم میں کانسٹی ٹیوشن کے لئے پورا مسالہ موجود نہیں۔دوسرے ہر قاضی اور ہر افسر قرآن کریم سے صحیح بات نہیں نکال سکتا۔اس لئے ضروری تھا کہ پورے طور پر غور کر کے قانون کو ایک معین شکل دے دی جاتی تاکہ جو لوگ قرآن کریم پر غور نہیں کہ سکتے وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں پھر دوسرے ممالک کے مقابل پر بھی پاکستان کا آئین تیار ہونا نہایت ضروری تھا سو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ قریباً نو سال میں مہارا دستور تیار ہو گیا۔اگر دستور کے بننے میں مزیادہ دیر ہوتی تو بہت سی خرابیاں پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔ملک میں عام طور پر مایوسی پیدا ہو گئی تھی، اور لوگ سمجھتے تھے کہ ہمارے لیڈر اس اہم مسئلے پر بھی سر جوڑ کر بیٹھنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے سو آج جب کہ دستور بن کر قوم کے سامنے آگیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیڈروں کو پبلک کے مائگر کردہ الزامات سے بچالیا ہے۔باقی لوگ اس آئین میہ اعتراضات کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس میں فلاں غلطی ہے فلاں نقص ہے۔انہیں بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دستور بهرمان انسانوں کا بنایا ہوا ہے اور انسانوں کے بنائے ہوئے دستور میں غلطیوں کا احتمال ہو سکتا ہے۔اس لئے دستور میں کوئی غلطیاں رہ بھی گئی ہوں تو ان کی بعد میں اصلاح ہوتی رہے گی ہمیں ان چند غلطیوں کی وجہ سے سارے دستور پر اعتراض نہیں کہ نا چاہیے۔قرآن کریم ہمارے سامنے ہے مجھے