تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 407
ایک کھوکھلی نمائش ہے۔اور کیا آج بھی سپین میں پرانے زمانے کی طرح اسلام کے متعلق منفیضی موجود ہے۔اگر اِن حقائق کو نظر اندانہ کر دیا جائے تو پھر بھی مذہب کی تبلیغ ہر ایک انسان کا بنیادی حق ہے جس کو حکومت سپین نے اپنے حکم کے ذریعہ سے ختم کرتا جاتا ہے۔اس کے تعلق حکومت پاکستان کو غور و فکر کرنا چاہیے اور اس کے جواب میں اسے سفارتی کا رروائی اور حکومتی خط و کتابت کے علاوہ حکومت کو اپنے ملک میں دوسرے مذاہب کے مبلغین کے بارے میں بھی نئے سرے سے اصول وضع کرنے چاہئیں۔اس ضمن میں ہماری ہمسایہ حکومت بھارت کا رویہ بھی قابل غور ہے۔نہ معلوم اس سلسلہ میں ہماری حکومت نے کچھ غور و خوض کیا ہے یا نہیں (۲) مشہور اخبار " اتفاق " نے ۲۹ جون ۱۹۵۶ء کی اشاعت میں لکھا در حکومت فرانکو نے حال ہی میں سپین میں صرف عیسائیت کے STATE RELIGION ہونے کا اعلان کیا ہے۔اور دوسرے ہر مذہب کی تبلیغ پر پابندی عائد کر دی ہے۔اسی وجہ سے میڈرڈمیں مقیم مبلغ اسلام کو سپین سے پہلے جانے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔حکومت سپین کا یہ فعل بین الاقوامی حقوق انسانیت پر ایک کاری ضرب ہے اور تمام عالم اسلام کے لئے خصوصا انتہائی طور پر تکلیف دہ ہے۔سپین ایک زمانہ میں یورپ میں اسلامی نندن کا مرکز تھا، اور یہاں پر فلسفہ ادب۔علوم و فنون ، اور علم صنعت و حرفت نے اس حد تک ترقی کرلی تھی کہ بعد میں یہی چیز یورپ کی نئی زندگی کا باعث بنی بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ در اصل سپین میں عربوں کے ذہنی ارتقا نے ہی موجودہ ماڈرن یورپ کو جنم دیا ، پھر بین الاقوامی اصول کے گرد سے مذہبی آزادی کا حق ہر اک کے لئے تسلیم کیا گیا ہے۔سپین کی موجودہ حکومت عالم اسلام کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات پیدا کرنے کی خواہاں ہے لیکن اگر اس نے ایسا رویہ اختیار کیا جو کہ عالم اسلام کو تکلیف دینے والا ہو تو اس سے یہ نتیجہ آغاز ہوگا کہ یہ محض ایک نمائشی خواہش ہے۔حکومت کا یہ حکم پرانے زمانے کے ایسا بیلا اور فرڈی نینڈ ISABELA لے (ترجمه از بنگله) روزنامه الفضل ریوه ام جولائی ۱۹۵۶ ۶ صفحه ۳