تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 408
۴۰۸ FERDINAND کے بعض و تعصب سے کم نہیں ہے۔حکومت فرانکو نے مذہبی آزادی کو ختم کرنے کے لئے جو حکم جاری کیا ہے اس پر حکومت پاکستان کو بیدار ہونا چاہیے اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر سیاسی گفت و شنید سے اس اہم معاملہ کو طے کرے۔(اتفاق ڈھاکہ ۲۹ور جون ۱۵۶ ء الے (۳) - جریده " ملت " نے لکھا: " ایک خبر سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت سپین نے اپنے ملک سے مبلغ اسلام کو نکل جانے کا حکم دیا ہے کہا جاتا ہے کہ یہ حکم پاکستانی سفارت خانہ کے ذریعہ دیا گیا ہے، یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہے۔مذہبی تبلیغ کی آزادی کا ہر ملک میں ہونا نہایت ضروری ہے۔پاکستان میں عیسائی مبلغین عیسائیت کی تبلیغ آزادی کے ساتھ بلا روک ٹوک کر رہے ہیں۔ہمیں یہ امید ہے کہ ہماری حکومت اس حکم کے ازالہ کے لئے مناسب کا رروائی فرمائے گی " رقمت ڈھاکہ ۲۹ جون سا ہو ہے فصل چهارم وقف زندگی سے متعلق تجاویز اور سید نا حضت مصلح موعود نے سفر یورپ اکشتی حضرت مصلح موعود کا اظہار رائے سے واپسی کے بعد اپنے متعد خطبات میں تقریب وقف زندگی پر زور دیا اور ۱۰؍ فروری ۱۹۵۶ء کو یہاں تک فرمایا کہ :۔" اگر دنیاوی حکومتوں نے اپنی ضروریات کے وقت جبری بھرتی کا قانون جائز رکھا ہے تو ہم اپنے نوجوانوں کو وقف کے لئے کیوں مجبور نہیں کر سکتے پیکے ه روزنامه الفضل به بوه در تولائی ۱۹۵۷ صفحوه ايضا سے روزنامہ الفضل ۲۶ فروری ۱۹۵۷ ص۳۷۲۔1404