تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 406
۴۰۶ مذاہب کے مشنری اور تمام روا داری برتنے والے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی حفاظت کے خواہاں اصحاب بھی جماعت احمدیہ کی ہمنوائی کریں گے۔اور فرڈینینڈ FERDINAND حکومت سپین کا قابل نفرت حکم ہمارے سامنے پرانے زمانہ کے ایسا بیلا ISABELA کی حکومت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔نیز ہمیں سپین میں عرب تمدن کے شہری زمانہ اور طارق و موسیٰ بن نصیر کی بے نظیر جرات بھی یاد دلاتا ہے۔در حقیقت عربوں نے ہی سپین کی تاریخ کو بنایا تھا۔انہوں نے اپنے زمانہ میں عمارت سازی ، انڈسٹری۔علم موسیقی۔ادب اور علوم و فنون کو ترقی دی تھی۔مگر وقتی طور پر عربوں کی یہ جلائی ہوئی شمعیں ناموافق حالات کی وجہ سے بجھا دی گئیں مگر کچھ عرصہ بعد وہی یورپکے ظلمت کروں میں روشن ہو گئیں۔اسی کو تاریخ میں یورپ کی نئی زندگی کے نام RENAISSANCE سے موسوم کیا جاتا ہے۔ایک وقت تھا کہ سپین سے عرب حکومت کو اور مسلمانوں کو بزور شمشیر نکال دیا گیا۔تم ایسا کرنے والوں نے اسلام کو سپین سے نکال کر عربوں سے زیادہ خود یورپ کے تمدن کو نقصان پہنچا یا۔اسی وجہ سے مشہور عیسائی مورخ لین پول لکھتا ہے کہ مہ اس طرح سے سپین والوں نے اس عرب نس کو قتل کر دیا جو روزانہ ایک سنہری انڈا دیا کرتا تھا۔اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کا تمدن پانچ سو سال پیچھے پڑگیا۔مندرجہ بالا تمام حقائق سپین کے موجودہ مدترین تسلیم کرتے ہیں اور آج کل تنزل فرانکو سپین کی اس پرانی غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ حقیقت اِن کی مساعی سے آشکار ہو رہی ہے چنانچہ انہوں نے مسلم ممالک میں اپنے تمدتی مشنری بھجوا کر اور افریقہ میں مسلم علاقہ کی آزادی کا اعلان کر کے اس بات کا واضع ثبوت فراہم کیا ہے۔آجکل سپین میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ پرانیز پہاڑ سے ہی افریقہ شروع ہو جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سپین اور افریقہ میں گہرا تمدنی تعلق ہے۔ماضی اور حال کے ان مختلف حقائق و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے آج سپین گورنمنٹ کا یہ حکم خاص طور پر اسلامی دنیا کے لئے حیران کئی اور انتہائی تکلیف جو ہے، اور طبعا دل یہ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ سپین اور اسلامی دنیا کی دوستی اور تعلقات کیا۔صرف