تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 401 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 401

ام پر مشتمل ہے۔اگر ہر ڈویژن میں سے میں ایسے فدائی کھڑے ہو جائیں جو ایک ایک سو روپیہ دینے کے لئے تیار ہوں تو چند دنوں میں ہی یہ رقم بڑی آسانی کے ساتھ پوری ہو سکتی ہے۔میں پشاور ، راولپنڈی ، جہلم ، گھیرات ، لاہور ،سیالکوٹ ، ملتان ، منٹگمری ، لائل پور، حیدرآباد کوئٹہ اور کراچی کے انصار کو خصوصیت کے ساتھ مخاطب کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ میری س آواز پر اپنی شاندار روایات کے مطابق لبیک کہیں گے اور اس عمارت کو اتنی سرعت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا دیں گے کہ دوسروں کے لئے ان کا یہ نمونہ مشعل راہ کی حیثیت رکھے گا۔یا د رکھیں کہ زما نہ بڑی سرعت کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہے۔اس دورمیں شکست گام کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔زندہ جماعتوں کے افراد اپنی قومی خصوصیات کو برقرار رکھنے کے لئے انتہائی جد و جہد سے کام لیا کرتے ہیں۔آخر اپنے منتہی کو حاصل کرکے رہتے ہیں انصاراللہ کا مرکزی دفتر تمام انصار اللہ کے لئے ایک دماغ کی حیثیت رکھنا ہے جس طرح انسانی جسم اسی وقت تک مفید اور کار آمد۔۔۔۔۔کام کر سکتا ہے۔جب تک اس کا دماغ کے ساتھ انصال رہتا ہے۔اس طرح انصار اللہ بھی عملی رنگ میں اس وقت تک ایک زندہ اور کا نہ آمد وجود رہیں گئے۔جب تک ان کا اپنے مرکز کے ساتھ تعلق رہے گا۔پس مرکزی دفتر کی عمارت کو پایہ تکمیل تک پہنچا نا خود انصار اللہ کے قیام کے لئے بھی ضروری ہے۔یہ درست ہے کہ ہم نے گذشتہ عرصہ میں اپنے وقت کا کچھ ضیاع بھی کیا ہے۔اور ہم نے اپنے قیمتی اوقات سے صحیح رنگ میں فائدہ نہیں اٹھا یا مگر بیداری کا تقاضا ہے کہ اب ہم اپنے قدم کو ایسا تیز تر کر دیں کہ نہ صرف گذشتہ کو تاہیوں کا پورے طور پر ازالہ ہو جائے۔بلکہ آنحمدہ قومی دور میں انصار اللہ کی جد وجہد ایک امتیازی حق حاصل کرے۔میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ کون سے مخلص دوست ہیں جو اس غرض کے لئے صرف ایک ایک سو روپیہ دینے کے لئے تیار ہوں، میں ایسے مخلصین کو آواز دیتا ہوں میں ہی نہیں لے ساہیوال۔کہ فیصل آباد -