تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 400
فت انصارالله مرکز ید کی عمارت کی تعمیل ان انتہائی تقاریب کے چند روز بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نائب صدر انصار الله مرکزیہ نے روز نامہ الفضل ۲ مارچ شراء کے پرچہ میں دفتر مرکزیہ انصار اللہ مرکزیہ کی تکمیل کے لئے مخلصین جماعت کو پُر زور تحریک فرمائی کہ لاکھوں کی جماعت میں سے نہیں صرف دو سو ایسے مخیر دوستوں کی ضرورت ہے۔جو ایک ایک سو روپیہ بطور عطیہ دینے کے لئے تیار ہوں۔چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا کہ : مجلس انصار الله مرکز یہ کے دفتر کا سنگ بنیاد ۲۰ فروری کو یوم مصلح موعود کی مبارک تقریب پرستید نا حضرت مصلح موعود کے مقدس ہاتھوں سے ربوہ کی سرزمین میں رکھ دیا گیا۔یہ پہلا مبارک قدم ہے جو انصار اللہ کے سرگرم اراکین نے اللہ تعالٰی کی مدد اور اس کی نصرت و تائید پر کامل یقین رکھتے ہوئے اس کے حضور عاجزانہ دعاؤں اور التجاؤں کے ساتھ اٹھایا ہے۔مجھے یقین ہے کہ انصار اللہ جو اپنے عزائم کی پختگی اور اپنے ارادوں کی بلندی میں نوجوانوں کے رامتنا اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک آدم کی حیثیت رکھتے ہیں۔اپنی پوری توجہ کے ساتھ اس عمارت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہر قسم کی قربانی سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور اپنی فعال حیثیت کا ایک نمایاں ثبوت لوگوں کے سامنے پیش کر دیں گے مجلس انصار اللہ کے گذشتہ سالانہ اجتماع میں تمام نمائندگان نے متفقہ مشورہ کے ساتھ دفتر کی عمارت کو مکمل کرنے کے لئے ایک روپیہ چندہ ہر نمبر کے لئے لازمی قرار دیا تھا۔تمام مجالس ہائے انصار اللہ کا اولین فرض ہے کہ وہ اس چندہ کی ادائیگی میں بغیر کسی پس و پیش کے فوری طور پر حصہ لیں اور ایک مہینہ کے اندر اندر اپنے ہر فرد سے اس چندہ کو وصول کرکے دفتر مرکزیہ کو اطلاع دیں مگر ظاہر ہے کہ ایک روپیہ سے اس عمارت کے اخراجات پورے نہیں ہو سکتے۔اور اگر اس قلیل رقم پر اکتفا کی جائے تو یہ عمارت کہیں برسوں میں پایہ تکمیل تک پہنچے گی اور اتنی مدت تک انتظار نہیں کیا جا سکتا۔سو اس کے لئے میں دو سو ایسے مخلصین کو پکارتا ہوں جو اس عمارت کی تکمیل کے لئے صرف ایک ایک سو روپیہ بطور عطیہ پیش کریں اور بغیر کسی التواء کے فوری طور پر پیش کریں۔مغربی پاکستان میں اس وقت دس ڈویژن ہیں اور ہر ڈویژن متعدد اضلاع