تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 398
۳۹۸ حضور نے فرمایا ہمارے نوجوانوں میں بی اے۔میں بی اے۔ایم اے کرنے کا بہت شوق۔ں ہے وہ خواہ فیل ہی ہوتے رہیں پھر بھی کالج میں جانے کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ٹیکنیکل لائنوں کی طرف جانے کو پسند نہیں کیا جاتا۔حالانکہ ان لا نوں میں ملازمتوں کی نسبت ترقی کرنے اور روپیہ کمانے کے بہت زیادہ امکانات ہیں حضور نے کئی ایک مثالیں دیتے ہوئے واضح فرمایا کہ کس طرح بعض دستکاروں نے نہایت معمولی اور محدود پیمانے پر کام شروع کیا اور پھر ترقی کرتے ہوئے کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔حضور نے فرمایا پس دو باتیں ایسی ہیں جنہیں اگر ہمارے سکولوں میں رائج کیا جائے تو ہماری آئندہ نسلوں میں ملازمتوں کی طرف جاتے اور دندکاریوں سے نفرت کا رحجان بدلا جا سکتا ہے۔ایک تو یہ کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دستکاری کا کوئی کام ضرور سکھایا جائے مثلاً لوہار کا کام ہے یا زمیندارہ کا کام ہے۔جس کے لئے سکول سے ملحق ایک چھوٹا سا قطعہ زرعی فارم کے طور پر مخصوص کیا جا سکتا ہے جس میں عملی طور پر زراعتی ترقی کی ابتدائی باتیں سکھائی جائینگی۔دوسری بات یہ ہے کہ اسکول کے ہر بچے کو کہونڈری کا کچھ کام سکھایا جائے۔اس کے لئے اگر مفتے میں صرف دو گھنٹے بھی مخصوص کر دیئے جائیں تو بھی بچے اپنی تعلیم میں عروج کئے بغیر معمول علاج معالجہ کرنے پر قادر ہو جائیں گے اور یہ چیز ایسی ہے کہ جس کی از حد ضرورت ہے۔ملک میں ڈاکٹروں کی بہت کمی ہے اس لئے کمیونڈری کا کام کرنے والے ملک کی بڑی خدمت کر سکتے ہیں۔اور ہزاروں بلکہ لاکھوں کما سکتے ہیں اور عملاً کہا بھی رہے ہیں۔پس میرے نزدیک یہ دو باتیں ایسی ہیں جو اگر ہمارے سکولوں میں رائج ہو جائیں تو ان سے موجودہ ذہنیت کو بدلا جا سکتا ہے۔اور نوجوانوں کے قلوب میں مختلف مہروں اور پیشیوں کو سیکھنے کا شوق اور ولولہ پیدا کیا جا سکتا ہے جس کی بدولت عملی زندگی میں ان کے لئے آمدنی پیدا کرنے اور معیار زندگی کو بلند کرتے کے لئے نئے نئے راستے کھلیں گے اور اس طرح جماعت کی مالی حالت بھی زیادہ مستحکم ہو سکے گی اور جماعت اسلام کی ترقی اور دین کی خدمت کے سلسلے میں اپنی سعی کو تیز سے تیز تر کر سکے گئی ہے ه روزنامه الفضل ریوه ۲۳ فروری ۱۹۵۶ ۶ صفحه ۳ ، ۴۷ -