تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 397
۳۹۷ " اچھا بیج استعمال کرنے اور مناسب موقع پر کھاد دینے سے پیداوار میں کتنا اضافہ ہو جاتا ہے اس طرح کی ابتدائی باتیں اگر زمیندار بچوں کو سکول میں ہی بتا دی جائیں تو اس سے یقینا وہ بڑے ہو کر بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور جماعت کے زمینداروں کی پیداوا کہیں سے کہیں پہن سکتیہے۔زرعی ترقی کی اہمیت حضور نے یورپ کے مختلف ممالک کی فی ایکٹر پیداوار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہمارے احمدی زمیندار محنت سے کام کریں اور زرعی ترقی کے لئے نئے نئے تجربات سے فائدہ اُٹھائیں تو ان کی آمدنیاں کئی گنا بڑھ سکتی ہیں اور اگر وہ اپنی پیداوار کا معیارہ یورپ کی کم سے کم پیداوار تک بھی لے جائیں تو جماعت کا چندہ بآسانی ساڑھے تین کروڈ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم ایک اسکول چھوڑ کٹی مزید اسکول اور کالج قائم کر سکتے ہیں۔حضور نے فرمایا ہماری جماعت کے کام دو حقوں میں منقسم ہیں۔ایک کام ہے اپنی آمد نیوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا، یہ کام ہماری ذاتی ہمت اور سعی سے تعلق رکھتا ہے اور موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ جماعت نے پوری ہمت سے یہ کام نہیں کیا اور اس میں ترقی کی ابھی کافی گنجائش ہے دوسرا کام ہے دین کی خدمت کے لئے چندہ دینا بہ کام دل سے تعلق رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اس کام میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نمایاں کامیابی عطا فرمائی ہے۔پس جو کام ہمارے اختیار میں تھا اس کے کرنے میں ہم نے کوتاہی کی ہے لیکن جو کام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں تھا وہ اُس نے کر دیا ہے اور ایسے انگ میں کر دیا ہے کہ دنیا ہماری جماعت کی مالی قربانی کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔سہارے پاکستان کے احمدی جس طرح پیٹ کاٹ کاٹ کہ دین کے لئے چندہ دیتے ہیں اس کی فی الواقع کوئی مثال نہیں مل سکتی۔حالانکہ یورپ کے مقابلے میں ان کی آمدنیاں بہت محدد ہیں۔اگر پاکستان کا معیار زندگی بھی یورپ اور امریکہ جتنا بلند ہو اور پاکستانی احمدی اپنی موجودہ شرح کے مطابق ہی چندہ دیں تو بھی ہما را چندہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پورے پاکستان کی موجودہ سالانہ آمدنی کے لگ بھگ پہنچ سکتا ہے اور ہم تعلیمی اور رفاہی کاموں میں بیسیوں گنا زیادہ حصہ لے سکتے ہیں۔