تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 389
۳۸۹ تو اس کے کمرے آسمان سے گھڑے گھڑائے نہیں آ جاتے بلکہ ہم اینٹیں لیتے ہیں۔اور انہیں خاص طریق سے نیچے اوپر رکھ دیتے ہیں۔جس سے ایک شکل بن جاتی ہے۔اور ہم کہتے ہیں یہ بر آمدہ ہے۔پھر ہم اینٹوں کو ایک اور طریق سے نیچے اوپر رکھتے ہیں جس سے ایک اور شکل بن جاتی ہے اور ہم کہتے ہیں یہ کمرہ ہے۔اسی طرح ہم کونے پر ایک کمرہ بناتے ہیں۔اور کہتے ہیں۔یہ بیٹھیک ہے۔ایک کمرہ بناتے ہیں اس میں کچھ طاقچے لگا دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں یہ غسل خانہ ہے۔پھر اگر ہم عمارت پر کچھی اینٹیں لگاتے ہیں تو مکان کچھ بنتا ہے۔اگر پکی اینٹیں لگاتے ہیں تو مکان پیکا بنتا ہے۔حکومت بھی ایک عمارت ہے جس کی اینٹیں افراد ہیں۔حکومت کی عمارت افراد کے ساتھ ہی بنتی ہے۔کیا تم نے کبھی جنگوں اور صحراؤں میں بھی کوئی حکومت دیکھی ہے حکومت شہروں میں ہوتی ہے، اس لئے حکومت نام ہے مجموعہ افراد کا۔جب افراد مل جل کر کام کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں یہاں حکومت قائم ہے، اور اگر تمام افراد مسلمان ہوں تو ان سے بنی ہوئی حکومت غیر مسلم کیسے ہو سکتی ہے مسلمان افرا سے جو حکومت بنے گی کوئی اسے غیر مسلم بنانے کے لئے کتنا زور لگائے کہ اس عمارت کو کچی عمارت ثابت کرے وہ کچی عمارت ہی کہلائے گی۔اسی طرح کچی اینٹوں سے جو عمارت بنے گی کوئی کتنا زور لگائے کہ اسے پکی عمارت ثابت کرے وہ کچھی عمارت میں کہلائے گی۔اسی طرح اگر افراد مسلمان ہوں گے تو ان سے جو حکومت بنے گی چاہے اس کا نام کچھ رکھ لو وہ بہر حال اسلامی حکومت ہی ہوگی، جیب حکومت کے بنانے والے لا الہ اللہ اللہ کہنے والے ہوں گے تو وہ حکومت غیر اسلامی کسی طرح ہو سکتی ہے۔پس اسلامی حکومت کا قائم کرنا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔اسلامی حکومت کسی اور کے بنانے سے نہیں نیتی۔اگر ہم خود مسلمان بن جائیں گے تو حکومت بھی اسلامی بن جائے گی۔بہن۔دوستان میں دیکھ لو وہ مونہہ سے یہ کہتے ہیں کہ ہم نے غیر دینی حکومت بنائی ہے۔لیکن ہے وہ ہند و حکومت۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ہندووں کی اکثریت ہے۔اگر ان کے کہنے کے مطابق واقعی لادینی حکومت ہے تو کیا وجہ ہے کہ مہندوستان کے کسی حصہ میں جب بھی مارے جاتے ہیں تو مسلمان ہی مارے جاتے ہیں۔کیا تم نے کبھی پڑھا ہے کہ بہار اور بنگال میں فسادات ہوئے اور اتنے ہندو اور سکھ مارے گئے، تم جب بھی پڑھوگے کہ ہندوستان میں فلاں جگہ فسادات کے نتیجہ میں کچھ لوگ مارے گئے تو وہ لاز کا مسلمان ہی گے۔عرض چاہے وہ اُسے لادینی حکومت ہی کہیں لیکن چونکہ وہاں ہندووں کی کثرت ہے۔اس لئے