تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 390
٣٩٠ ان کی وجہ سے جو حکومت بنی ہے وہ ہندو حکومت ہی ہے۔اسی طرح اگر ہم بھی حقیقی مسلمان بن جائیں تو چونکہ یہاں ہماری اکثریت ہے۔اس لئے چاہے کوئی کتنا زور لگائے یہاں اسلامی حکومت ہی بنے گی۔پس اگر سب افراد صحیح معنوں میں مسلمان ہوں تو ان سے بنی ہوئی حکومت ہر حال اسلامی ہوگی چاہے اس کا کوئی نام رکھ لیا جائے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن یہ ضرور ہے کہ اسلامی کہانے سے ہندو پڑتے ہیں۔حالانکہ چاہے وہ اپنی حکومت کو لا دینی کہتے ہیں لیکن ہے وہ بھی دینی، اگر وہ لا دینی حکومت ہوتی تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے، ہر دفعہ فسادات میں مسلمان ہی کیوں مارے جاتے ؟ کبھی نہ کبھی یہ خبر بھی آتی کہ فلاں جگہ اتنے ہندو مارے گئے ہیں۔لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔لیکن وہ کہتے یہی ہیں کہ ہماری حکومت کا دینی ہے۔لیکن چونکہ وہاں مہندؤوں کی اکثریت پائی جاتی ہے۔اس لئے اس اکثریت کی وجہ سے ملک میں جو حکومت قائم ہوئی ہے وہ ہندو حکومت ہی ہے۔اس لئے جو ابتلا بھی آتا ہے مسلمان پر ہی آتا ہے۔بہر حال اسلامی حکومت کے قیام کا اصل طریق یہ ہے کہ پاکستانی مسلمان دل سے سلمان ہو جائیں۔اس کے نتیجہ میں جو حکومت قائم ہوگی اسے آپ کوئی نام دے دیں وہ یقینا اسلامی حکومت ہوگی کیونکہ اس کے بنانے والے مسلمان ہوں گے۔اور مسلمان میں حکومت کو بنائیں گے وہ کسی صورت میں غیر اسلامی نہیں ہو سکتی ہے ایک بہائی بیرسٹر کا۔سیدنا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اوران کراچی سے ایک دوست رپورٹ بھائی کی ماں بہتا ہوں حضرت مصلح موعود کا حقیقت افروز جواب کا ایک جلسہ ہوا ہے جس میں ایک ہائی بریسٹ نے چودھری محمدعلی صاحب وزیر اعظم پاکستان سے اپنی ایک ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے اُن سے CONSTITUTION بنائی وہ اسلامی نہیں کیونکہ اسلام تو فیل کہا کہ آپ نے جو کانسٹی ٹیوشن نے ہو چکا ہے۔ہاں آپ نے بہائی تعلیم کا خلاصہ پیش کر دیا ہے۔اس پر چودھری محمد علی صاحب نے کہا کہ له روزنامه الفضل ربوہ مورخہ ۱۰ اکتوبر شاء صفحه ۴۷۳ مسلمان طلباء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نہ کی قیمتی نصائح۔فرموده ۲۹ جنوری ۶۱۹۵۶ نے آئین۔