تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 383
اسے کچھ بھی نہیں سمجھتے بلکہ ہم تو امید رکھتے ہیں کہ وہاں کے مبلغ ہمیں یہ اطلاع دیں گے کہ امریکہ کی جماعت کا چندہ چالیس ہزار ڈالر سالانہ نہیں چالیس لاکھ ڈالہ سالانہ نہیں ، چالیس کروڑ ڈالر سالانہ نہیں ، چالی ، ارب ڈالر سالانہ نہیں بلکہ چالیس کھرب سالانہ ہے۔یعنی پاکستان کی موجودہ سالانہ آمد سے بھی دس ہزار گنا زیادہ ہے۔اس وقت ہم سمجھیں گے امریکہ آج اسلام کے قریب ہوا ہے۔جب امریکہ اپنا کلیجہ نکال کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردے گا۔تب ہم سمجھیں گے کہ امریکہ آج اسلام لایا ہے تھوڑے بہت روپے کو ہم کچھ نہیں سمجھتے۔یہ روپیہ کیا ہے، امریکہ کے لحاظ سے تو یہ اس کے ہاتھ کی میں ہے بلکہ اس کے ہاتھ کی میل بھی نہیں۔جس دن امریکہ اربوں ارب روپیہ بطور چندہ اسلام کی اشاعت کے لئے دے گا۔جس دن امریکہ میں لاکھوں مسجدیں بن جائیں گی۔جس دن امریکہ میں لاکھوں میناروں پر اذان دی جائے گی۔جس دن امریکہ میں لاکھوں امام مساجد میں پانچ وقت کی نماز پڑھایا کریں گے۔اس دن ہم سمجھیں گے کہ آج امریکہ اپنی جگہ سے ہلا ہے۔پس دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ان پر کوئی شخص اس قسم کا سوال کرے تو اسے نہیں کہ یہ جواب دیا کہ ہیں کہ میاں تم کون ہو پوچھنے والے یہ تو ایسی بات ہے جس کا گورنمنٹ کو بھی علم ہے بسائے منی آڈر اس کی معرفت آتے ہیں اور بینکوں پر اس کا تسلط ہے معلوم ہوتا ہے تمہیں کوئی دھوکا لگ گیا ہے یا تم سے کسی افسر نے مذاق کیا ہے کہ احمدیوں کو امریکہ سے امداد ملتی ہے ورنہ اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ یہ بات تمہارے ذریعہ دریافت کرتا وہ تو بڑی آسانی سے ڈاک خانوں سے اس بات کے متعلق معلومات حاصل کر سکتا تھا یا بینکوں سے اس بات کا علم لے سکتا تھا۔بھلا گورنمنٹ سے یہ باتیں چھپ سکتی ہیں۔ڈاک کا محکمہ گورنمنٹ کے ماتحت ہے اس لئے ڈاک خانوں کی معرفت جو روپیہ ملتا ہے گورنمنٹ کے افسران کو اس کا علم ہوتا ہے۔ہاں بعض اوقات کو ہمنشیں مصلحنا کہ دیا کرتی ہیں کہ ہمیں فلاں بات کے متعلق پتہ نہیں۔حالانکہ انہیں اس کا علم ہوتا ہے۔پس ایسی باتیں بعض لوگ برسبیل تذکرہ کر دیا کرتے ہیں۔اس لئے یہ خیال کر لینا کہ ایسی باتیں کرنے والا ضرور گورنمنٹ کا جاسوس ہے فضول بات ہے۔اگر کوئی شخص اس قسم کی باتیں کرتا ہے تو مومن کو چاہیے کہ بجائے اس کے وہ دہم کرے وہ گورنمنٹ کا آدمی ہے وہ خدا تعالی سے استغفار کرے، ہاں اگر وہ مرکز کو خیر دیا