تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 384
۳۸۴ ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔دراصل یہ باتیں ایسی ہیں کہ اِن کے لئے گورنمنٹ کو سی آئی۔ڈی مقرر کرنے کی ضرورت نہیں اگر کسی کو کسی بیرونی ملک کی معرفت روپیہ آتا ہے تو حکومت کو اس کا علم ا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ روپیہ اسی کے محکمہ کے ذریعہ آتا ہے پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ عقلمند قوم امریکہ ہے اور اس کا حکومتی مذہب عیسائیت ہے آپ وہ کون پاگل حکومت ہوگی ہو اپنے مذہب کے خلاف دوسروں کو روپیہ دے۔ہم تو حکومت امریکہ کے مذہب عیسائیت کے خلاف لڑتے ہیں اور ان کے عقائد کو باطل قرار دیتے ہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ جیسے حضرت مین علیہ السلام کو یہود نے کہا تمہیں " بعل " سکھاتا ہے۔(بعل ایک بت کا نام تھا جس سے یہودی لوگ عقیدت رکھتے تھے ، تو مسیح علیہ السلام نے جواب دیا کہ اے نادانو ! میں بعل کے خلاف تعلیم دیتا ہوں پھر وہ مجھے اپنے خلاف باتیں کیوں سکھاتا ہے کیا کوئی دوسرے کو اپنے مذہب کے خلاف باتیں سکھاتا ہے پھر تم میرے متعلق یہ خیال کیسے کر سکتے ہو کہ بعد مجھے سکھاتا ہے جب کہ میں اس کے خلاف تعلیم دیتا ہوں اب دیکھو یہ کتنی موٹی دلیل ہے۔اسی طرح ہم بھی کہتے ہیں مگر کیا امریکہ کی عقل ماری گئی ہے کہ وہ ہمیں روپیہ دے حالانکہ ہم اس کے مذہب کے خلاف تبلیغ کر رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ہم اس کے مذہب کو توڑ کر رکھ دیں گے وہ دن دور نہیں جب احمدیت کے ذریعہ امریکہ میں عیسائیت پاش پاش ہو جائے گی اور اسلام قائم ہو جائے گا۔وہ دن دور نہیں جب مسیح کو امریکہ کے تخت سے اتار دیا جائے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تخت پر بیٹھا دیا جائے گا جب وہ زمانہ آجائے گا حکومت امریکہ بے شک ہمیں امداد دے گی اور نہ صرف ہمیں حکومت امریکہ امداد دے گی بلکہ وہ ہمارے آگے ہاتھ جوڑے گی کہ خدا کے لئے ہم سے مدد لو اور تمہیں ثواب سے محروم نہ رکھو مگر آج وہ ہمیں مدد نہیں دے سکتی ہے ۲۳ جنوری ۱۹۵۷ء کو وکالت تبشیر مبلغین اسلامکے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب کی طرف سے ایک خصوصی تقریب معقد کی سے کی گئی جس میں مبلغ فلسطین مکرم مولا نا محمد شریف صاحب اور مبلغ انڈونیشیا مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب له روزنامه الفضل ربوه مورخه در فروری ۱۹۵۶ء صفحه ۴۰۳۴۔