تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 382
۳۸۲ اصلاح تو کی جائے مگر فساد کا وہ عام طریقہ جو دوسری مجالس میں سوال وجواب کے رنگ میں اختیار کیا جاتا ہے۔اس کی اجازت نہ ہوگی یا سے شروع جنوری ۱۹۵۷ء کا واقعہ ہے کہ حضور امریکن قوم سے تعلق ایک پر شوکت بیان کی خدمت میں الا انہیں کسان کے یہ بعضی احمدیوں کو ریل میں سفر کرتے ہوئے بعض آدمی جنہوں نے اُن پر متعدد سوالات کئے جن کی وجہ سے انہیں وہم ہوا کہ وہ سی آئی ڈی کے آدمی ہیں۔حضور نے ۲۰ جنوری ۹۵۶اہ کے خطہ معبر میں اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ جد " جہاں تک گورنمنٹ کی مدد کا سوال ہے اخبارات میں پاکستان کے بعض وزراء کی تقریریں چھپی ہیں کہ حکومت امریکہ نے حکومت پاکستان کو اتنی مدد دی ہے۔ہمیں مدد دینے کے متعلق زرتو کبھی گورنمنٹ نے اعلان کیا ہے اور نہ گورنمنٹ کے رسل در سائل کے قرائع نے کبھی اعلان کیا ہے کہ گورنمنٹ نے اس قدر مدد احمدیوں کو دی ہے۔لیکن جہاں تک پاکستان کو مدد ملنے کا سوال ہے۔اس کے متعلق خود پاکستان کے وزراء نے اعلانات کئے ہیں جو اخبارات میں بھی چھپ چکے ہیں بلکہ گورنر جنرل نے بھی کہا ہے کہ حکومت امریکہ نے حکومت پاکستان کو اس قدر مدد دی ہے۔پس جہاں تک گورنمنٹ امریکہ کا تعلق ہے وہ ہم سے ایسی ہی جلا ہے جیسے دوسرے ممالک کی غیر مسلم حکومتیں جدا ہیں اور جہاں تک امریکن لوگوں کا سوال ہے اُن کی اکثریت اب بھی عیسائی ہے مگر اک خدا تعالیٰ کے فضل سے ان میں ایک ایسی جماعت پیدا ہو چکی ہے جو اسلام لے آئی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ روز بروز بڑھ رہی ہے۔اس کے اندر اسلام کی خدمت کا بڑا جوش پایا جاتا ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ترقی کرتے کرتے جب اس کی تعداد ایک خاص حد تک پہنچے جائے گی تو ہزاروں اور لاکھوں ڈالہ کا سوال ہی پیدا نہ ہو گا بلکہ ان کا چندہ اربوں تک پہنچ بھائے گا جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے امریکہ کے انچارج مبلغ خلیل احمد صاحب ناصر نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ ہماری جماعت کا چندہ چالیس ہزار ڈالہ سالانہ تک پہنچ گیا ہے۔یہ رقم بہت بڑی ہے لیکن ہم ه روزنامه الفضل ربوہ مورخہ ۲۰ جنوری ۱۹۵۶ ه صفحه را