تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 27 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 27

۲۷ واقعات کی روشنی میں میں نے محسوس کیا کہ آپ عام ماؤں سے مختلف ماں اور عام ساسوں سے مختلف ساس تھیں اور میرے شادی سے قبل کے تمام خدشات ہے اصل اور بے بنیاد تھے۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔بحیثیت آپ کی بہو ہونے کے میں نے خاص طور پر اس چیز کو محسوس کیا کہ آپ میں وہ کوتاہ نظری، تنگ ظرفی اور تنگ دلی اور بگاڑ کی عمارت سازی نہیں پائی جاتی جو عمو گا گھروں میں ساس بہو کے جھگڑوں کی بنیاد بن جاتی ہے۔آپ کے پاس آگریں نے یہ بھی محسوس نہیں کیا کہ میں کسی غیر اور اجنبی جگہ آگئی ہوں بلکہ آپ کی محبت اور شفقت نے تو میری اپنی ماں کی وفات کے بعد جو ایک زبر دست خلاء میری زندگی میں واقع ہو گیا تھا اس کو بہت حد تک بھر دیا تھا۔آپ کی مہربانی ات میں مجھے ماں کی سی شفقت اور محبت نظر آتی تھی اور آپ نے مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھا۔نہ اُنہیں مجھے سے غیریت تھی اور نہ ہی مجھے ان سے اجنبیت۔ماں اور بیٹی نے پندرہ سال کا عرصہ جو اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ جھپکنے میں گزر گیا راحت و آرام، شفقت و محبت ، دلداری اور وفاشعاری میں بسر کیا۔اس عرصہ میں مرتبہ بھی نہ تو کوئی الجھن پیدا ہوئی اور نہ بکر مرگی۔نہ طعن و تشنیع کا کوئی موقع آیا اور نہ گڑھنے اور جلنے کی کوئی گھڑی دیکھی۔غرضیکہ محبت و شفقت سے اس نہ دور کا آغاز ہوا اور وہی محبت و شفقت اس وقت بھی آپ کی آنکھوں میں موجود تھی جب اِس دنیا میں آپ مجھ سے جدا ہو رہی تھیں۔آپ میری قابل قدر محہ تھیں۔جس جس رنگ میں آپ نے میرے جذبات کا خیال اور میرے آرام کو مد نظر رکھا اُسے اگر تمام ساسیں اپنا شعار بنا لیں تو مجھے یقین ہے کہ دنیا میں ساس بہو کے جھگڑوں کی آواز بند ہو جائے اور یہ گھناؤنی چیز جس نے ہزاروں ہزار گھرانوں کے امن و چین کو پامال کر رکھا ہے یک قلم ختم ہو جائے اور تمام مگر کون و آرام کے نشیمن بن جائیں۔آپ اپنی بہوؤں کی ادنیٰ سے ادنی خدمت کی احسان مند ہو جائیں اور