تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 333 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 333

دوسرے احمدی مشنوں کی طرح لائبیریا مشن میں بھی صداقت احمدیت کے کئی نشان ظاہر ہوئے۔چنانچہ صوفی محمد اسحق صاحب اپنی ایک رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں کہ : ائبیریا میں قیام کے شروع میں وہاں ایک لبنانی تاجر مسلمان منصور عطر نامی نے مخالفت شروع کہ دی حتی کہ ایک اخبار میں میرے خلاف کچھ ناز یبار یمار کسی بھی شائع کرائے جس پر میں اس سے ملا مگر اس کا رویہ معاندانہ اور متکبرانہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح موعود کو الہام کیا تھا کہ "راني مهين مَنْ اَرَادَ إِهَا نَتَكَ وَإِنِّي مُعِينَ مَنْ اَرَادَاعَا نَتَكَ به چنانچہ اس الہی وعدہ کے مطابق چند ماہ کے اندر اندر اس شخص کی رسوائی اور ملک بدری کا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس طرح ہوا کہ اس ملک میں نہیں چلانے کی کسی غیر ملکی کو اجازت نہ تھی لیکن یہ اس میں ملوث پایا گیا جس پر اسے فورا ملک بدر ہونے کا نوٹس مل گیا۔اور اسے اپنا سارا تجارتی کاروبار اونے پونے فروخت کرکے ملک سے نکلنا پڑا۔اسی طرح ایک دفعہ منروویا کے بعض سرکہ وہ مسلمان جو در پردہ جماعت کے دشمن تھے صدر مملکت ٹب میں کو ملے اور اُن سے درخواست کی کہ وہ اس عاجز کو ملک بدر کر دیں لیکن صدر صاحب نے ان مسلمانوں کو جواب دیا کہ احمد بریشن ایک بین الاقوامی تنظیم ہے۔پس جب تک جماعت احمدیہ کا مبلغ نائبیریا کے مگلی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتا وہ اسے ملک سے نکل جانے کا حکم نہیں دے سکتے، جس پر یہ سب نا کام ہو کر واپس آگئے ہے۔صوفی صاحب موصوف لائبیریا میں تقریباً سوا تین سال مصروف جہاد رہے۔اس قلیل عرصہ بن نہ شر یہ کہ ملک میں اسلام اور احمدیت کا چہ چا ملک کے ہر طبقہ میں شروع ہو گیا۔بلکہ مشن مالی اعتبار سے بھی بہت حد تک خود کفیل ہو گیا اور علمی طبقے کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ه ملخص رپورٹ مرتبہ جناب صوفی محمد اسحق صاحب