تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 325 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 325

۳۲۵ عزیز احمد صاحب اور مولوی محمد زہدی صاحب نے ایک ہزار سے زائد کتب نمائندگان میں تقسیم کیں۔نیز فلسطین ، انڈونیشیا ، ترکی ، عراق ، برما، سیلون ، انڈیا اور یمین کے ممالک کے نمائندگان سے تبادلہ خیال بھی کیا ہے شمالی بور نیمشن مشق کی طرف سے اس سال انگریزی عالی زبان کا ایک سہ ماہی رسالہ منٹن سے اس و PEACE جاری کیا گیا۔اب تک مغربی ساحلی علاقہ میں احمدیت قائم تھی۔اس سال کے ابتداء میں بعض دوسرے علاقوں کی طرف توجہ دی گئی۔چنانچہ مبلغ سلسلہ مکرم مرزا محمد ادریس صاحب مشرقی ساحل کے دورے پر تشریف لے گئے۔جس کے دوران ایک تو رسالہ کی توسیع واشاعت کا موقع ملا۔دوسرے دیہاتی لوگوں نے ذوق و شوق سے تبلیغ حق شنی۔آپ کے بعد مکرم مولوی محمد سعید صاحب انصاری بھی اس علاقہ میں تشریف لے گئے۔ایک زیر تبلیغ نوجوان ہوا ونتلمورا یوسف صاحب نے بیعت کی۔جس پر اُن کی بہت سخت مخالفت ہوئی۔مگر وہ ثابت قدم رہے اسی طرح کرم مرزا محمد ادریس صاحب کی کوششوں میں بھی خدا نے برکت بخشی اور راناؤ کی بستی کا ایک ہیڈ ماسٹر احدی ہو گیا جس کے چند روز بعد ایک ریٹائر ڈ ٹیچر نے بھی مع اپنی بیوی کے بیت کہ مالی اس سال بورنیو مشن کے اثرات نمایاں طور پر ظاہر ہونے شروع ہوئے۔اور خوشکن اطلاعات مرکز میں پہنچیں جن کی تفصیل حضرت مصلح موعود کی زبان مبارک سے درج ذیل کی جاتی ہے :- بور نیو میں اس وقت ہمارے دو مبلغ ہیں۔پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس علاقہ میں احمدیت کا پھیلنا مشکل ہے۔اس لئے یہاں دو مبلغوں کو بٹھانے کی کیا ضرورت ہے اور اس علاقہ میں پہلے بہت ہی تھوڑے احمدی تھے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں صرف ایک ہی احمدی تھے اور وہ ڈاکٹر بدرالدین صاحب تھے۔میں وہاں کے مبلغین کو بار بار کہہ رہا تھا کہ اپنے کام کو بڑھاؤ۔آخر خدا تعالیٰ کا فضل ہوا اور اس علاقہ میں احمدیت کے پھیلنے کے سامان پیدا ہو گئے۔ہمارا ایک مبلغ بورنیو کے ایک حصہ میں تبلیغ کے لئے گیا اور خدا تعالیٰ کا یہ فضل ہوا کہ وہاں احمدیت کی ایک رو پیدا ہو گئی۔انگریزوں کو له الفضل ۱۲۰ جولائی ۱۹۵۵ء ص۳ له الفضل ۱۴ ستمبر ۹۵ (خلاصہ رپورٹ مکرم ڈاکٹر حافظ بدر الدین صاحب مقیم بورنیو )۔-